پاکستانی کرکٹرز پر مقدمہ چار اکتوبرسے

سلمان بٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

برطانیہ میں ٹیسٹ میچ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے تین پاکستانی کرکٹرز کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت چار اکتوبر سے شروع ہوگی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ، بولر محمد آصف اور محمد عامر اور سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید پر الزام ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور دھوکہ دہی کی سازش ہے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سات سال تک قید اور بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا سکتا ہے۔

جمعہ کے روز لندن میں ساؤتھ وارک کی عدالت میں جج جان سونڈرز نے اعلان کیا کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت چار اکتوبر سے شروع ہوگی۔ ملزمان میں سے کوئی بھی اصالتاً عدالت میں پیش نہیں ہوا اور ان کے وکلاء نے ان کی نمائندگی کی۔

تمام کھلاڑی ضمانت پر ہیں۔ محمد آصف اور محمد برطانیہ میں موجود تھے لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کو ملک نہ چھوڑنے کا پابند کر رکھا ہے اور ان کا پاسپورٹ عدالتی تحویل میں ہے۔

<link type="page"><caption> سپاٹ فکسنگ: کب کیا ہوا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/01/110111_spot_fixing_timeline_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انہوں مظہر مجید سے ملکر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت چھبیس اور ستائیس اگست دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے وقت پر نوبال کراوائیں اور مظہر مجید نے اس کام کے لیے نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر سے ڈیرہ لاکھ سٹرلنگ پونڈ وصول کیے تھے۔ مظہر مجید کو نوٹ گنتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انہیں نوٹوں میں سے کچھ کپتان سلمان بٹ اور نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر کے ہوٹل کے کمرے سے برآمد کر لیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ آئی سی سی کا ٹربیونل پانچ فروری کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت محمد عامر پر پانچ سال، محمد آصف پر سات اور سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کر چکا ہے اور سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد عامر نے اس سزا کے خلاف ثالثی عدالت میں اپیل بھی دائر کی ہے۔