’پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ‘

امریکہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کے باوجود اس کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیک مولن نے نیو یارک میں ایک غیر سرکاری تنظیم ہڈسن یونین سوسائٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ جوہری ہتھیار محفوظ رہیں اور ’حالیہ برسوں میں پاکستان نے اس بارے میں قابلِ ذکر اقدمات کیے ہیں۔ اس لیے میں پرسکون ہوں۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ 'میری سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر پاکستان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں یہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے، تو آپ کے سامنے ایک ملک ہے جو اسلامی ہے، مذہبی ملک جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جو انہیں استعمال کر سکتا ہے اور انہیں پھیلا سکتا ہے۔ ہمارے مقاصد میں سے ایک ہے کہ ایسا نہ ہونے دیں۔‘
انہوں نےاپنے خطاب میں اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کے تعلقات شدت پسندوں سے ہیں۔
دوسری طرفامریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا ہے کہ ان کی ذمہ داری کے علاقوں میں افغانستان اور پاکستان سے سب زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے سامنے کچھ بھی آسان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن شدت پسندوں نے ناہموار سرحدی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنائی ہوئی ہیں وہ نہ صرف افغانستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کی سلامتی کی تباہی میں کردار ادا کر رہے ہیں بلہ وہ پاکستان کی بقا کے لیے بھی سنجیدہ خطرہ ہیں۔

















