سری لنکا فوجی کی کارروائیاں شروع

تمل ٹائیگروں کی حامی ویب سائٹ نے دعوی کیا ہے کہ سری لنکا کی فوج نےدو روزہ فائربندی کے خاتمے پر ایک بار بھر تمل ٹائیگروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ تاہم سری لنکا فوج کے ترجمان نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج صرف تامل ٹائیگرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت کر سکیں۔ واضح رہے کہ جنگ بندی کی معیاد رات بارہ بجے ختم ہو گئی ہے۔
سری لنکا حکومت نے تمل ٹائیگرز کی طرف سے مستقل جنگ بندی کی پیشکش مسترد کردی ہے۔
سری لنکا کے سیکریٹری خارجہ ڈاکٹر پلیتھا کوہانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’تامل ٹائیگرز نے دو روز کی جنگ بندی کے دوران اس علاقے سے شہریوں کو نقل مکانی کرنے نہیں دی۔ بلکہ انہوں نے اپنی دفاعی لائنز کو مزید مستحکم کرنے کے لیے شہریوں سے کام کرایا ہے۔‘
تاہم تمل ٹائیگرز کی طرف سے اس حکومتی دعوے کے متعلق کوئی بیان نہیں آیا۔
دوسری طرف تمل ٹائیگرز کی حامی ویب سائٹس کا کہنا ہے کہ دو روز کی جنگ بندی معیاد ختم ہونے کے بعد شمال مشرق میں سری لنکن فوج نے تمل ٹائیگرز کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
حکومت نے شہریوں کے اس علاقے سے انخلاء کے مدِ نظر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس جنگ بندی سے شہریوں کے انخلاء میں مدد نہیں ملی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس علاقے میں ایک لاکھ سے زائدشہری پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم تامل ٹائیگرز کا کہنا ہے کہ شہری علاقہ نہیں چھوڑنا چاہتے۔
ویب سائٹس کے مطابق فوج نے ملیتوو ڈسٹرکٹ میں کارروائی شروع کردی ہے جس میں مارٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو تمل ٹائیگرز کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
سری لنکا فوج کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ’ہم نے کوئی کارروائی شروع نہیں کی اور ہم صرف باغیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















