افغان پولیس، 15 ہزار اہلکاروں کی بھرتی

افغانستان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اگست کے صدارتی انتخابات سے قبل پندرہ ہزار نئے پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے اور ان کی تربیت بھی مکمل کر لی جائے گی۔
وزیرداخلہ حنیف اتمر کے مطابق حکام نے بین الاقوامی امداد دہندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان پولیس فورس میں عسکری اضافےکی منظوری دے۔
انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی پوری تفصیل جون میں جاری کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اضافہ عارضی ہوگا تاہم حکام اس بات کا جائزہ لے رہے کہ پولیس فورس مستقل بنیادوں پر کتنی ہونی چاہئے۔
اس وقت ملک میں بیاسی ہزار پولیس اہلکار کام کر رہے ہیں۔
خبررساں ادارے رائئٹرز کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا: ’ہم افغانستان میں پولیس کی تعداد میں عسکری اضافہ چاہتے ہیں اور دوئم یہ کہ جب تک عسکری اضافہ نہیں ہوجاتا اس وقت عبوری اضافہ کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ حکام کے خیال میں ابتدائی اندازوں کے مطابق پولیس کی موجودہ تعداد کو دوگنا کیا جانا چاہئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ضرورت کا صحیح اندازہ لگانے اور اسے پورا کرنے کے لیے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر براک اوباما نے خطے سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے افغانستان کے ملکی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے منصوبے بنانے اور افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے لیے چار ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان روانہ کرنے کی تجویز دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر افغانستان ميں امريکي افواج کے سربراہ ڈيوِڈ ميککرنن نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ ميں يہ آزمائشوں کا سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن عامہ کي صورتحال اور تحريک آزادي کي رفتار سے مطمئن نہيں ہيں کيونکہ ملک کے کچھ علاقے اب بھي دشمن کي آماجگاہيں بنے ہوئے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ميں سکيورٹي اس وقت بہتر ہوسکتي ہے جب پاکستان سرحدي علاقے ميں طالبان کے خلاف مؤثر کارروائي کرے۔




















