سری لنکا میں ریڈکراس ’تھک ہار‘ چکی ہے

تامل بچہ
،تصویر کا کیپشنجنگ زدہ علاقے میں ہسپتال دواؤں اور خوراک سے خالی ہوچکے ہیں

آئی سی آر سی نے کہا ہے کہ سری لنکا کے جنگ زدہ علاقے میں کام کرنے والے سرکاری ڈاکٹر 'تھک ہار‘ چکے ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق اس کے پاس زخمی ہونے والے سینکڑوں یا ہزاروں افراد کے لیے ضروری ساز و سامان نہیں ہے۔

تنظیم کہتی ہے کہ وہ زمینی راستے محفوظ مقامات کی طرف جانے والوں کی مدد کو تیار ہے مگر اسے رسائی نہیں دی جا رہی۔

ایک اندازے کے مطابق اب بھی ایک لاکھ کے لگ بھگ تام شہری اس چھوٹے سے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں باغی تامل ٹائیگرز اور سرکاری فوج میں جنگ ہو رہی ہے۔

بیس مربع میل کی اس ساحلی پٹی میں ان لوگوں کے لیے زندگی عذاب بن چکی ہے۔

اس علاقے پر کئی ماہ سے گولے برسائے جا رہے ہیں، مگر اقوام متحدہ کے مطابق تامل باغی عام شہریوں کو علاقہ چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔ باغی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

حکومت آئی سی آر سی کو زمینی راستے کے ذریعے ان لوگوں تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہی۔

یہ ہی سبب ہے کہ تنظیم صرف سمندری راستے کے ذریعے ہی عام شہروں کو وہاں سے نکال رہی ہے۔ وہ بھی ہفتے میں صرف دو یا تین جہاز ہی چار سے پانچ سو انتہائی بیمار، بوڑھے یا شدید زخمی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے۔

سری لنکا میں تنظیم کے سربراہ پال کیسٹیلا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں انتہائی مشکل صورتحال ہے۔ وہاں پر قائم صحت کی عارضی سہولیات جنگ کے اثرات سے قطعی محفوظ نہیں ہیں۔‘

انہوں کہا کہ ’وہاں کام کرنے والا وزارت صحت کا عملہ بالکل تھک ہار چکا ہے۔ یہ لوگ وہاں کئی ماہ سے بغیر کسی وقفے کے دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور دواؤں اور دوسرے طبی ساز و سامان کی کمی واقع ہوچکی ہے۔‘

مسٹر کیسٹیلا کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ چھوٹے علاقے میں گنجائش سے زیادہ لوگ ہیں اور ان کا انحصار کُلّی طور پر بیرونی امداد پر ہے اور یہ کہ وہاں حفظان صحت کی سہولت کا فقدان ہے۔

ریڈ کراس فروری سے اب تک دس ہزار عام شہریوں کو وہاں سے نکال چکی ہے مگر مسٹر کیسٹیلا ان لوگوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے جو ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر برطانیہ نے اپنے سابق وزیرِ داخلہ ڈیس براؤن کو سری لنکا کے لیے خصوصی نمائندہ بنا کر اقوام متحدہ کے صدر دفتر روانہ کیا ہے تاکہ سری لنکا میں جاری صورتحال کے بارے میں فوری طور پر بحث کا آغاز کیا جا سکے۔