’کارروائی کریں ورنہ تعلقات متاثر ہوں گے‘

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور حال ہی میں سوات کے بعد بونیر پر طالبان کے قبضے سے امریکہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور واشنگٹن نے پاکستان قیادت پر ان طالبان کے خلاف عملی اقدام کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
امریکہ کےصدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بھیل کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پاکستان پر واضح طور پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے جس پر صدر سب سے زیادہ وقت صرف کر رہے ہیں۔
ادھر امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پاکستان کی سیاسی قیادت سے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف کارروائی کریں ورنہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی فوج کے ایک اڈے کے دورے کے دوران جہاں امریکی فوجی افغانستان روانگی سے قبل تیاریوں میں مصروف تھے رابرٹ گیٹس نے کہا کہ پاکستان کے قائدین طالبان کی طرف سے جمہوری حکومت کو خطرے سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

انہوں نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے خطرے سے صرف آگاہی کافی نہیں ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
رابرٹ گیٹس نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کا استحکام افغانستان میں اتحادی افواج کے آپریشن کا ایک بڑا مقصد ہے اور یہ امریکہ اور پاکستان کےتعلقات کا بھی مرکزی نکتہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’ ہم ان سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہرطرح سے مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اصل خطرے کو سمجھیں۔‘
رابرٹ گیٹس کا بیان امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت طالبان کے آگے گھٹنے ٹیک رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان سے پاکستان کو ’مہلک خطرہ‘ لاحق ہے۔
اسی دوران نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژپ ڈی ہوپ شیفر نے بلغاریہ میں کہا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو کی فوج سرحد پار پاکستان میں کارروائی نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کے سینتالیس ہزار فوجیوں کو صرف اور صرف افغانستان میں کارروائیاں کرنے کا اختیار ہے۔





















