امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

عراق
،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی عراقی حکومت کی رضا مندی سے کی گئی تھی

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ امریکہ نے ملک کے جنوب میں حملہ کر کے ایک جرم کیا ہے اور اس کے ذمے داروں کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ ملک کے جنوبی حصے میں حملہ کر کے سلامتی سے متعلق اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کے تحت امریکی فوجیں عراق میں کارروائی کر رہی ہیں۔

عراق کے جنوبی شہر الکُوت میں ہونے والے اس حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی عراقی حکومت کی رضا مندی سے کی گئی تھی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کے مطابق سال کے اوائل میں اس معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے یہ امریکی فوج اور عراقی حکومت کے مابین پیدا ہونے والا سب سے سنگین تنازعہ ہے۔

ایک سینئر عراقی اہلکار کے مطابق اس کارروائی کے بعد معاہدہ بے معنی ہو گیا ہے۔

اس کارروائی میں امریکی فوج نے الکوُت پر اتوار کی صبح چھاپہ مارا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کارروائی میں چھ دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چھاپے کا مقصد اسلحے کے ایک سمگلر کو گرفتار کرنا تھا اور یہ کہ کارروائی عراقی فوج سے منظوری کے بعد کی گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق اس کے سپاہیوں نے گھر کے باہر موجود ایک مسلح شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا جبکہ ہلاک ہونے والی عورت فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئی۔

دو عراقی فوجیوں کو حکومت کے علم میں لائے بغیر امریکی کارروائی کی منظوری دینے پر گرفتار کیا گیا ہے۔