عراق: دو کار حملے، ساٹھ ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں دو خود کش حملوں میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے قدیمیہ علاقے میں ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق دھماکے اہل تشیع کے مقدس مقام پر اس وقت ہوئے جب جعمہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں تقریبا سو افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور نے چند منٹوں میں ہی امام موسیٰ کاظم کی درگاہ پر دھماکہ کر دیا۔
ایک دن قبل جمعرات کو ہی بغداد اور بقوبہ میں دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے۔
ان دھماکوں میں کم از کم اسّی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عراق میں گزشتہ برس تشدد کے واقعات میں کمی تو آئی تھی لیکن شدت پسندوں نے حملے کرنا بھی جاری رکھا تھا۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ حال میں ہوئے دھماکوں سے حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی تو نظر نہیں آتی لیکن حالات تشویش ناک ضرور ہیں۔
عراق کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ سے اب تک ستاسی ہزار سے زیادہ عراقی مارے جا چکے ہیں ۔ سنہ دو ہزار پانچ میں عراق کے حالات کافی خراب تھے۔
محکمہ صحت کے ادادوشمار ہسپتالوں اور مردہ گھروں سے موصول ہوئی جانکاری کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق عراق جنگ کے دوران مارے گئے لوگوں کی تعداد کو لیکر بحث کو دیکھتے ہوئے اسے کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔



















