عراق میں دو دھماکے، درجنوں ہلاک

عراق میں جمعرات کو پرہجوم جگہوں پر دو خود کش حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق میں گزشتہ ایک سال میں ہونے والے دھماکوں میں یہ جانی نقصان کے اعتبار سے سب سے زیادہ خوفناک دھماکے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شہر بعقوبہ میں ایک ریسٹورنٹ کے باہر دھماکے میں اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے جن میں زیادہ تر ایران سے تعلق رکھنے والے شیعہ زائرین تھے۔
بغداد میں ایک اور خود کش حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس بے گھر لوگوں میں امداد تقسیم کر رہے تھی۔
عراق میں گزشتہ ایک سال میں تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود عراق کے مختلف علاقوں میں شدت پسند وقتاً فوقتاً پر تشدد کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔
فوجی حکام کے مطابق بعقوبہ میں دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک ریسٹونٹ میں بہت سے ایرانی زائرین موجود تھے۔
دالیہ کےگورنر عبدالناصر نے کہا کہ بعقوبہ میں ہسپتال کے باہر قیامت کا منظر تھا۔
انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’یہ بزدلانہ حملہ تھا، الفظ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔‘
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور نے کہا کہ اگر بعقوبہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق ہو گئی تو یہ گزشتہ ایک سال میں ہونے والے دھماکوں میں سب سے خوفناک دھماکہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دالیہ صوبے میں تمام تر کوششوں کے باوجود مکمل طور پر امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔
بغداد میں حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آوور بے گھر افراد میں شامل ہو گیا تھا۔
سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ کے حملے کے بعد ملک میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں بے شمار لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں کم از کم پانچ بچے شامل تھے اور پچاس افراد زخمی ہو گئے۔
درین اثناء عراقی ذائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ عراق میں سنی عرب گروپ کے سربراہ ابو عمر البغدادی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تاہم وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل محمد العسکری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں اس گرفتاری کے بارے میں حتمی اطلاع نہیں ہے۔‘
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ طبی معائنے اور تفتیش کے بعد گرفتار ہونے والوں شخص کی شناخت کی جائے گی۔
واشگٹن میں امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اس شخص کی شناخت کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔



















