ایران میں دی گئی پھانسی پر سخت احتجاج

انسانی حقوق کی تنظمیوں نے ایران میں ایک خاتون کو پھانسی دیئے جانے پر زبردست احتجاج کیا ہے۔
اس خاتون کو قتل کی سزا دی گئی ہے جو اس نے مبینہ طور پر تب کیا تھا جب وہ سترہ برس کی تھیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے دلیرہ درابی کو پھانسی دیئے جانے سے کافی افسوس ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مقدمے کی شفاف شنوائی نہيں ہوئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب درابی کے وکیل نے نئے شواہد پیش کیےتو عدالت نے ان پر غور نہیں کیا۔ ان شواہد کی مدد سے یہ ثابت ہو جاتا کہ درابی یہ قتل کر ہی نہیں سکتی تھیں۔
ایران کی عدلیہ کے سربراہ نے حال ہی میں ان کی پھانسی کے سلسلے میں دو مہینے کے لیے حکمِ امتناعی جاری کیا تھا لیکن خاتون کے وکیل کے مطابق جیل کے اہلکاروں نے اس حکم کو نظرانداز کر دیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے تہران سے بتایا ہے کہ جمعہ کو صبح دلیرہ درابی نے اپنے والدین کو فون کیا اور کہا کہ وہ جلاد کی ہاتھ میں پھانسی کا پھندہ دیکھ سکتی ہیں۔ جیل کے ایک اہلکار کی جانب سے اس سے فون چھیننے سے قبل درابی نے کہا ’ماں وہ مجھے پھانسی دینے جا رہے ہیں، مجھے بچایئے۔‘ تاہم اس اہلکار نے کہا ’ہم آپ کی بیٹی کو پھانسی دینے جا رہے ہيں اور اس سلسلے میں کچھ نہيں کیا جا سکتا۔‘
دلیرہ درابی، جو پیشے کے لحاظ سے ایک مصورہ ہیں، نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بوائے فرنڈ کو بچانے کے لیے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مقدمہ اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنا جب اس خاتون کے جیل میں تخلیق کیے گئے فن پاروں کو بین الاقوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔






















