کرزئی پھر صدارتی امیدوار

افغان صدر حامد کرزئی محمد قاسم فہیم اور کریم خلیلی کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنصدر حامد کرزئی محمد کےساتھ محمد قاسم فہیم اور کریم خلیلی امیدوار ہیں

افعانستان کے صدر حامد کرزئی نے بیس اگست کے انتخابات میں امیدوار بننے کے لیے اپنے کاغذات نامزمدگی داخل کرا دیے ہیں۔

انہوں نے نائب صدر کریم خلیلی اور سابق نائب صدر محمد قاسم کو اپنے ساتھ امیدوار نامزد کیا ہے۔

نائب صدر کریم خلیلی کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے اور وہ افغاسنتان میں اہل تشیع فرقہ کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ محمد قاسم فہیم تاجک ہیں اور وہ ملک کے وزیر دفاع بھی رہ چکے ہیں۔

کاغذات داخل کرنے کے بعد صدر کرززئی کا کہنا تھا کہ وہ صدارت کے لیے اس لیے دوبارہ امیدوار بنے ہیں کہ وہ افغان عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن وہ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

حامد کرزئی سنہ 2001 سے اقتدار میں ہیں اور انہوں نے 2004 میں افغانستان کے پہلے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

حزب مخالف کے پاس اپنی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے مزید ایک ہفتے کی مدت ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حزب مخالف کی طرف سے صدر کرزئی کے خلاف کونسا امیدوار سامنے لایا جائے گا۔ گورنر گل آغا شیرزئی دو روز پہلے اس مقابلے سے دست بردار ہو گئے تھے اور محمد قاسم فہیم حزب اختلاف کے رکن ہیں لیکن اب وہ صدر کرزئی کے ساتھ امیدوار بن گئے ہیں۔

صدر کرزئی اب امریکہ روانہ ہوں گے جہاں وہ امریکہ اور پاکستان کے سہ فریقی مذاکرات میں شریک ہونگے۔ امریکی انتظامیہ کچھ عرصے سے صدر کرزئی پر یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ افغانستان میں بدعنوانی سے نمٹنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لے رہے۔