کرزئی: امریکی لائحہ عمل کا خیر مقدم

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ علاقے کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی ان کی توقعات سے بڑھ کر ہے۔
حامد کرزئی نے اپنے ایک بیان میں خاص طور پر امریکی حکمت عملی کے اس حصے کی تعریف کی جس کا تعلق پاکستان میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے سے ہے۔
امریکی صدر اوباما نے پاکستان اور افغانستان کی صورتحال کو ’سنگین‘ قرار دیا تھا۔ حال ہی میں امریکی فوجی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے عناصر کے طالبان کے ساتھ روابط ہیں۔
نئی امریکی حکمت عملی کے تحت مزید 4000 امریکی فوجی افغانستان میں تعینات کیے جائیں گے اور افغانستان کی شہری ترقی کے لیے بھی امداد دی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستانی صدر آصف زرداری نے بھی اس حکمت عملی کے چند پہلوؤں کی تعریف کی ہے مثلاً پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اسلامی شدت پسندوں کے اثر کو کم کرنے کے لیے غیر فوجی امداد کی پیشکش۔
کرزئی کا کہنا ہے کہ وہ اس لائحہ عمل سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔’افغان عوام ایسے ہی کسی اقدام کی امید کررہے تھے۔ اس کے لیے ہماری طرف سے مکمل تعاون ہوگا‘۔
جمعہ کے روز افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک سرحدی علاقے بن گئے ہیں۔
امریکی فوج کے اعلٰی اہلکاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے کچھ عناصر اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان روابط موجود ہیں۔ امریکہ کی مرکزی کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریس نے کہا کہ کچھ عسکریت پسند گروہوں کے قیام میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا اور ان کے تعلقات اب بھی موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے کیونکہ اگر عسکریت پسندوں اور فوجی عناصر کے درمیان تعلقات ہیں تو یہ اس اعتماد کی فضا کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے جو ہمیں پاکستان کے ساتھ قائم کرنی ہے۔





















