افغانستان: شہری ہلاکتوں پر احتجاج

جنوبی افغانستان کے صوبے فرح میں سینکڑوں افغان باشندوں نے امریکی بمباری سے ہونے والی شہری ہلاکتوں کےخلاف احتجاج کیا ہے جس کے دوران پرتشدد واقعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغان حکام کے مطابق منگل کو امریکی افواج کے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
ان ہلاکتوں کے خلاف جمعرات کو فرح میں سینکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل مظاہرین نے متعدد سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرے میں شامل افراد امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔
صوبے کے نائب گورنر محمد یونس رسولی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تاہم مقامی ہسپتال کے عملے کے مطابق ان کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا ہے جسےگولی کا زخم ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں فضائی حملے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر ’شدید دکھ‘ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں کی مشترکہ تحقیق کروائی جائے گی۔ اس سے قبل امریکی فوج کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک تفتیشی ٹیم علاقہ کے لیے روانہ کر دی ہے اور اب ان سے مزید معلومات ملنے کا انتظار ہے۔

















