افغانستان: ہوائی حملوں کی انکوائری

جنرل ڈیوڈ پیٹریئس
،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کو احتیاط سے کام لینا ہوگا: جنرل پیٹریئس

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل ڈیوِڈ پیٹرئیس نے افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے فضائی حملوں کے استعمال کے بارے میں تحقیقات کے لیے ایک بریگیڈیئر جنرل کا تقرر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ امریکہ کے عسکری مقاصد کو اس کے حربوں سے کوئی زک نہ پہنچے امریکی فوج کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

جنرل پیٹریئس افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں صدر کرزئی نے افغانستان میں ہوائی حملے بند کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔

افعان صدر کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہوتے ہیں جس سے دہشگردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے فرح صوبے میں کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ سو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی موقف کے مطابق یہ اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں۔

جنرل پیٹریئس نے امریکی چینل فوکس آن سنڈے کو بتایا کہ دراصل صوبہ فرح میں ہلاکتوں کا واقعہ طالبان کی وجہ سے پیش آیا۔ ان کا موقف تھا کہ ’طالبان رقم چھینے کی غرض سے صوبے فرح کے دیہات میں گھس گئے، تین شہریوں کو ہلاک کیا، اور پھر پولیس پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد صوبے کے گورنر نے افغان اور اتحادی افواج سے مدد طلب کی۔ یوں لڑائی شروع ہوگئی۔ پھر فضائی بمباری کرنا پڑی جس میں طالبان ہلاک ہوئے، مگر کچھ شہری بھی مارے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے ان شہریوں کو ان گھر میں رہنے پر مجبور کیا جہاں سے وہ حملے کر رہے تھے‘۔

اس سے قبل امریکی صدر اوباما کے سلامتی کے مشیر جمیز جونز نے فضائی حملے بند کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ آٹھ برس سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں تاہم افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں تواتر سے جاری ہیں۔