امریکہ حملے بند کرے، کرزئی کا اصرار

کرزئی
،تصویر کا کیپشن’سو سے زائد شہریوں کی ہلاکت یقینی طور پر امریکی فضائی حملے کا نتیجہ ہے‘

افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر حملے کرنا بند کرے۔ یہ بیان فراح صوبے پر اس حالیہ امریکی حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

حامد کرزئی نے واشنگٹن میں سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان پر امریکی حملے ’ناقابل قبول‘ ہیں۔انہوں نے کہا ’ہم ان کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فضائی حملے بند کیے جائیں‘۔

یہ امریکی حملہ بدھ کو امریکی صدر اوباما، پاکستانی صدر آصف زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی کے اجلاس کے دوران ایجنڈے پر حاوی رہا۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ’سو سے زائد شہریوں کی ہلاکت یقینی طور پر امریکی فضائی حملے کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ امریکی فوج کہہ رہی ہے کہ یہ حملہ طالبان پر کیا گیا، ایسا نہیں ہے بلکہ حملہ عام شہریوں پر کیا گیا تھا‘۔

’ہمارا ماننا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے فضائی حملے کرنا بالکل بھی موثر اقدام نہیں ہے۔ ایسے حملوں سے شہری نشانہ بنتے ہیں جوکہ نہ تو امریکی فوج اور نہ ہی افغانستان کے لیے اچھا ہے‘۔

امریکی فوج اور افغان حکام اس حملے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ہلاک شدگان میں کتنے عسکریت پسند شامل تھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔

واشنگٹن میں تین صدور کے درمیان ہونے والی کانفرنس میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف ’مشترکہ‘ کارروائی پر بات چیت کی گئی۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ انہیں ان اموات پر شدید رنج ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’معصوم جانوں‘ کے نقصان کو کم کرنے کے لیے اب اور محنت کرے گا۔