سپن بولدک: خودکش حملے میں چودہ ہلاک

افغان سرحدی شہرسپن بولدک میں ایک خودکش حملے میں دس پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔
افغان حکومت نے واقعہ کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ سرحد پر سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔
بلوچستان کے شہر چمن کے قریب افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں جمعرات کی صبح ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی تحصیل پولیس ہیڈکوارٹر سے ٹکرا دی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں دس افغان پولیس اور چار شہری موقع پر ہلاک جبکہ سولہ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کوفوری طورپر بولدک ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ چمن سے مقامی صحافی اصغراچکزئی کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں بعض افغان فوجی بھی شامل ہیں جنہیں فوری طور پرقندھار ائرپورٹ پر واقع نیٹو فورسزکے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
اس واقعےکے بعد افغان حکام نے باب دوستی پر نہ صرف پاکستان کی جانب سے افغانستان میں داخل ہونے والوں کی سخت تلاشی شروع کی ہے بلکہ بولدک قندھار روڈ کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر کے علاقے میں مشکوک افراد کی تلاش شروع کردی۔
بولدک پولیس کے سربراہ اخترمحمد نے واقعے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس وقت خودکش حملے شروع ہوئے جب امریکی اور نیٹوفورسز القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش اور طالبان کے خاتمہ کے لیے آٹھ سال قبل افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ سپن بولدک میں اس سے قبل بھی افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے خوراک اور دیگر اشیاء لے جانے والے ٹرکوں اور فورسز پر اب تک اس طرح کے خودکش حملوں میں کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں اکثر واقعات کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔
لیکن جمعرات کاحملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان صدر حامدکرزئی نے ایک دن قبل طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر اور گلبدین حکمت یار کوافغان حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















