گوانتانامو: امریکی سول کورٹ میں مقدمہ

امریکی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ خلیج گوانتنانامو کے قید خانے میں زیر حراست ایک قیدی پر امریکہ کی سوِل عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
تنزانیا کے شہری احمد غیلانی گوانتانامو کے پہلے قیدی ہونگے جن پر امریکہ کی شہری عدالت میں مقدمہ چلے گا۔
احمد غیلانی پر نیو یارک کی فیڈرل کورٹ میں انیس سو اٹھانوے میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر بم حملوں میں ملوث ہونے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ تنزانیا اور کینیا میں ہونے والے ان حملوں میں دو سو سے زیادہ افردا مارے گئے تھے۔
امریکی وزرات انصاف کا گوانتانامو کے اس قیدی پر سول کورٹ میں مقدمہ چلانے کا یہ فیصلہ اسی روز سامنے آیا ہے جب صدر اوباما نے ایک بار پھر اس قید خانے کو بند کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سے ایک روز پہلے امریکی سینیٹ نے گوانتانامو کو بند کرنے اور وہاں زیر حراست دو سو چالیس قیدیوں کو منتقل کرنے کے منصوبہ کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ صدر اوباما نے اس قید خانے کو بند کرنے کے لیےمنصوبے کے لیے اسّی ملین ڈالر مانگے تھے تاہم سینیٹ نے اس کو چھ کے مقابلے میں نوے ووٹوں سے رد کر دیا تھا۔
صدر اوباما نے اپنی تقریر میں گوانتانامو کو ایک ایسا تجربہ قرار دیا جس کی بنیادی سوچ ہی غلط تھی۔انہوں نے کہا کہ گوانتنامو کے قیدیوں کے خلاف کیس کا جائزہ ایک ایک کر کے لیا جائے گا۔
غیلانی کے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ چلانے پر امریکی اٹارنی جنرل ایرِک ہولڈر نے کہا کہ اس سے ’ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ آخر کار احمد غیلانی ہمارے تنزانیہ اور کینیا میں سفارتخانوں پر بم حملے میں کردار کا جوابدہ ہو۔‘
غیلانی تنزانیا کے شہری ہیں۔ انہیں سنہ دو ہزار چار میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ستمبر دو ہزار چھ میں دیگر ممالک میں قائم سی آئی اے کی خفیہ جیلوں سے گوانتامو منتقل کیے گئے چودہ ’انتہائی اہم‘ قیدیوں میں شامل تھے۔
مارچ دو ہزار چھ میں ان کے ایک بند کمرے کی سماعت کے ریکارڈ کے مطابق غیلانی نے تنزانیہ کے دار الحکومت دار السلام میں امریکی سفارتخانے پر بم حملے کے لیے دھماکہ خیز مواد پہنچانے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم سماعت میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کو پہلے سے اس حملے کے بارے میں علم نہیں تھا اور انہوں نے امریکی حکومت اور متاثرین کے خاندانوں سے معذرت طلب کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیلانی کی ماں نے ان کے بیٹے پر امریکہ کی سوِل عدالت میں مقدمے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا اور تنزانیہ کے صدر سے اپیل کی کہ وہ امریکہ کے اپنے دورے پر صدر اوباما سے درخواست کریں کہ وہ غیلانی پر تنزانیا میں مقدمہ چلانے کی اجازت دے دیں۔
تنزانیہ کے صدر جکایا کِک ویتے کسی افریقی ملک کے پہلے سربراہ ہیں جو صدر اوباما سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔
گوانتانامو کے قیدیوں کو امریکہ منتقل کرنے کا معاملہ امریکہ میں بہت متنازع ہے اور بیشتر سیاستدان اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔






















