شمالی کوریا: دو اور میزائل تجربے

جنوبی کوریا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے دو مزید میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔
یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا کے ایٹمی تجربے کی مذمت کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا ہے۔
اس سے قبل شمالی کوریا کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امریکی جارحانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’ہماری فوج اور عوام جنگ کے لیے تیار ہیں ۔۔۔اگر امریکہ نے کوئی ایسا قدم اٹھایا۔‘
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے دو مختصر فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ اس وقت کیا گیا ہے جس وقت اقوام متحدہ شمالی کوریا کے خلاف ایک قرار داد پر کام کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرار داد میں شمالی کوریا پر مزید پابندیوں کی سفارش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ایٹمی تجربے کے بعد شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ اس تجربہ کا مقصد اپنے دفاع کے لیے جوہری صلاحیت کومستحکم بنانا ہے۔
تاہم خبررساں ادارے نے تجربہ کے مقام کی تفصیل نہیں بتائی۔ البتہ جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق زلزلہ پیما آلہ پر جو جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں ان کا مرکز شمالی کوریا کے شمال مشرقی علاقے کِلجو کے پاس ہے جہاں شمالی کوریا نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا تھا۔
















