جہاز کے ٹکڑوں کا سراغ مل گیا

برازیل کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی ساحل سے چار سو میل دور بحرِ اوقیانوس میں لاپتہ ہونے والے فرانسیسی طیارے کے ٹکڑے دیکھے گئے ہیں۔
برازیل کے وزیرِ دفاع نیلسن جوبن نے بتایا کہ لاپتہ طیارے کی تلاش میں بھیجے گئے جہازوں نے پانچ کلومیٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا جہاز کا ملبہ دیکھا ہے۔
جائے حادثہ کی طرف برازیل کی بحریہ کا ایک جہاز روانہ کر دیا گیا ہے جو وہاں پہنچ کر ملبہ اکٹھا کرنے کا کام کرے گا۔
ائر فرانس کی فلائٹ اے ایف 447 ریو دی جنیرو سے پیرس جاتے ہوئے سمندر کے اوپر راڈار سے غائب ہو گئی تھی۔ اس میں 228 مسافر اور عملے کے ارکان موجود تھے۔ اس جہاز کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح نو بجکر دس منٹ پر فرانس پہنچنا تھا۔
فرانس میں حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہیں جبکہ برازیل نے سرکاری طور پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
جہاز سے اس کے لاپتہ ہونے سے کچھ دیر قبل خراب موسم اور برقیاتی نظام میں خرابی کی شکایت کی گئی تھی۔فرانس میں حکام کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جہاز کے کسی بھی مسافر کے زندہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔
فرانسں کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ژان لوئی بورلو نے کہا ہے کہ ’حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کا امکان بہت بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘
اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اے ایف 447 کے سبھی مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے ہیں تو یہ ائر فرانس کی تاریخ میں سب سے بڑا حادثہ ہو گا جس میں اتنی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بدقسمت طیارے میں سوار ایک مسافر کے باپ الڈیئر گولمز کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس امید کی آخری کرن بھی اب ختم ہو گئی ہے۔‘
’پہلے ہم میں سے کچھ سمجھ رہے تھے کہ طیارہ کہیں کسی جزیرے پر اتر گیا ہے لیکن اب نہیں۔‘
برازیل کی بحریہ کی طرف سے بھیجا جانے والا جہاز تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اکھٹا کرے گا اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کرے گا کہ کس طرح جہاز آسمان سے زمین پر گر گیا۔ تلاش کے لیے بھیجی جانے والی ٹیموں کی کوشش ہو گی کہ کسی طرح جہاز کا کاکپٹ وائس اور ڈیٹا ریکارڈر مل جائے جس کی مدد سے یہ پتا چلے گا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔
برازیل کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ جہاز کے ملبے کو اکھٹا کرنا بحرِ اوقیانوس کی گہرائی کی وجہ سے ایک مشکل کام ہو گا۔
’سمندر کے اس مقام پر گہرائی دو ہزار میٹر سے تین ہزار میٹر تک ہو سکتی ہے۔‘
فرانس جائے حادثہ کی طرف ایک بحری جہاز بھیج رہا ہے جس کے ساتھ دو آبدوزیں لگی ہوئی ہیں۔ امریکہ نے بھی خصوصی ریڈار والے آلات وہاں بھیجے ہیں تاکہ فلائٹ ریکارڈر کو تلاش کیا جا سکے۔
ائر فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہو جانے والے طیارے کے مسافروں میں زیادہ تر فرانس اور برازیل کے شہری تھے۔ حکام کے مطابق طیارے کےمسافروں میں سے اکسٹھ کا تعلق فرانس سے تھا جبکہ اٹھاون برازیل کے شہری تھے۔
دوسری طرف برازیل کے حکام کی طرف سے جاری کی جانے والی مسافروں کی فہرست میں چھبیس جرمن اور بالترتیب نو نو چینی اور اطالوی شہری شامل ہیں۔ اس فہرست میں چھ سوئس شہریوں، پانچ برطانوی، پانچ لبنانی اور چار ہنگری کے شہریوں کے نام بھی شامل ہیں۔
دیگر جن ملکوں کے شہری اس مسافر طیارے میں سوار تھے ان میں آئرلینڈ، ناروے، سلواکیہ، امریکہ، مراکش، ارجنٹائن، آسٹریا، بیلجیئم، کینیڈا، کروایشیا، ڈنمارک، ہالینڈ، ایسٹونیا، فلپائن، گیمبیا، آئس لینڈ، رومانیہ، روس، جنوبی افریقہ، سویڈن اور ترکی شامل ہیں۔
ایئر فرانس کے مطابق گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دو بجکر چودہ منٹ پر جہاز نے خود کار نظام کے تحت ایک پیغام بھیجا تھا کہ پرواز ناہموار ہونے کے بعد جہاز کے شارٹ سرکٹ میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔
فرانس میں چارلس دی گال ائیرپورٹ کا کہنا ہے کہ برزایل کے دارالحکومت ریئو دی جینیرو کے حکام کے مطابق جہاز کے ساتھ رابطہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے ختم ہوگیا۔




















