آتشزدگی میں 29 بچے ہلاک

شمال مغربی میسیکو کی ریاست سونورا کے ہرموسیلو شہر میں بچوں کی ایک سرکاری نرسری میں آگ لگنے کے باعث کم از کم 29 بچے ہلاک ہوگئےہیں۔
اے بی سی نامی نرسری کے درجنوں زخمی ہونے والے بچوں کو ہسپتالوں میں داخل کرلیا گیا ہے۔ یہ بچے آگ یا پھر دھویں سے شدید متاثر ہیں۔ حکام نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔
کہا جارہا ہے کہ آگ ٹائروں کے ایک ڈپو میں لگی جہاں اور بھی ایسی اشیا موجود تھیں جو باآسانی آگ پکڑتی ہیں۔ یہ تمام مواد بچوں کی نرسری سے ملحقہ عمارت میں موجود تھا۔
سونورا شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ آگ اس تیزی سے پھیلی کہ کچھ بچوں کو نرسری سے باہر نکالنا بھی ممکن نہ رہا۔ میسیکو کے صدر فیلیپ کالڈروننے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔
یہ نرسری میسیکو کی سوشل سروسز کے تحت تھی۔
آگ اتنی شدید تھی کہ فائر بریگیڈ عملے کو دیواروں میں سوراخ کرکے بچوں کو باہر نکالنا پڑا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعد میں آگ پر قابو پالیا گیا تھا تاہم وہاں موجود راکھ اور ملبے سے لاشیں نکالنے کے لیے بھی کافی وقت درکار ہے۔
میکسیکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو گبز کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے وقت علاقے میں درجنوں ایمبولینسیں پہنچ گئیں جبکہ شہر کا یہ حصہ گہرے دھویں کی لپیٹ میں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نرسری میں موجود بچوں کے خوفزدہ والدین شہر کے ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔تمام لوگ کسی انجانی خبر کے خوف سے ڈرے ہوئے تھے۔کئی بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں کم از کم 176 بچے موجود تھے۔ یہ بچے چھ ماہ سے پانچ سال کی عمروں کے تھے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام اب اس امر کی تحقیقات کررہے ہیں کہ ٹائروں کا ڈپو نرسری سے ملحقہ کیوں تھا۔







