ایران: صدر کون بن سکتا ہے؟

- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تہران
ایران کے دسویں صدارتی انتخابات میں عوام کی شرکت کا جوش و خروش اب اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ خاص کر آزاد سوچ رکھنے والا شہروں میں متوسط طبقہ اور خوشحال لوگ، ان انتخابات میں ایک بڑی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
تاہم کم آمدن والے طبقے اور دیہاتی علاقوں میں موجودہ حکومت کے حامی احمدی نژاد کی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
ان حالات میں ایران کے لیے بڑا چیلینج انتخابات کے بعد حالات اور ماحول میں ٹھراؤ پیدا کرنا ہوگا جس کے لیے ابھی سے ایران کے مذہبی اور انقلاب کے حامیوں نے اعلیٰ اخلاقی اقدار اور جمہوریت میں عدم تشدد کی اہمیت کے بارے میں بیانات دینے شروع کردیے ہیں۔
چند اخبارات میں اورحکومت مخالف حلقوں میں دھاندلی کے بارے میں تشویش یا افوہیں بڑھ رہی ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کے ذمہ دار ادارے اور وزارت داخلہ نے دھاندلی کے ان خدشات یا شک کو دور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
اس وقت مختلف اندازوں رائے عامہ کے جائزوں سے جو بات واضح ہے وہ یہ کہ موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کی مقبولیت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے تاہم ان کے سب سے بڑے حریف، میر حسین موسوی، کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص کر تہران کے بازاروں اور گاڑیوں میں ان کی انتخابی علامت، سبز رنگ بہت واضح نظر آ رہا ہے۔

ایسی حالت میں اگر کسی بھی بڑے گروہ کے لیے صدارتی انتخاب کے نا پسندیدہ نتائج نکلے گا تو خدشہ ہے کہ ایران سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے۔
انتخابی عمل میں عوام کی پُر جوش شرکت کو ہر گروہ اپنے اپنے مقصد کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے تو امیدواروں سے اوپر، انقلابی رژیم، انھیں انقلابی اصولوں کی کامیابی قرار دے رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی پیشین گوئی کر رہی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کی بھر پور شرکت کو بعض لوگ انقلابی نظریات سے ان کی بیزاری کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
مغربی اخبارات میں تاثر یہ پیدا ہورہا ہے کہ اگر میر حسین موسوی انتخاب جیت گئے تو شاید یہ ایران کے قدامت پسندوں کی شکست ہوگی اور شاید اس طرح ایران بین الاقوامی معاملات، خاص کر جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی نرم رویہ اختیار کر لے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران میں موجودہ امیدواروں میں سے کوئی بھی انتخابات جیتے، ایران کے جوہری پروگرام یا مشرق وسطیٰ کے بارے میں اس کی پالیسیوں میں تبدیلی کے بہت کم امکانات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میر حسین موسوی، جنھیں ان کا حامی میڈیا ریفارمسٹ یعنی اصلاح پسند قرار دے رہا ہے خود کو اصولیت پسند قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظریات کے حامیوں نے گزشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کو بری طرح شکست دی تھی۔اس کے علاوہ پچھلے انتخابات میں قدامت پسند کہلانے والے علما اور سیاستدان ان انتخابات میں اصلاح پسندوں کے کیمپ میں بیٹھے ہیں اور یہ سب گروہ محمود احمدی نژاد کے خلاف ہیں۔

جن نظریات کے مجموعے کو اصلاح پسند کہا جا رہا ہے وہ دراصل احمدی نژاد مخالف اتحاد ہے یہی وجہ ہے کہ احمدی نژاد کے حامی اس اتحاد کو اسلامی تاریخ کی جنگ، غزوہ خندق کے موقع پر بننے والے مختلف قبائل کے اتحاد کی طرف اشارہ کر کے انھیں 'احزاب‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔
اگرچہ ایران کی سیاست کو عام طور پر سہولت کے لیے اصلاح پسندوں یا قدامت پسندوں دھڑوں کے نام دیے جاتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک رہنما یا جماعت جو ایک معاملے میں اصلاح پسند نظر آتی ہے تو وہی کسی اور معاملے میں قدامت پسند رویے کی حامل دکھائی دیتی ہے۔
تا ہم روایتاً اصلاح پسند کہلانے والی جماعتیں یا رہنما میر حسین موسوی کے ساتھ کھڑی ہیں جو کہ خود اصولیت پسند نظریات کے حامل ہیں۔ میر حسین موسوی کے حامیوں میں سب سے بڑی شخصیت، سابق صدر محمد خاتمی ہیں جو اصلاح پسند ہیں مگر اصلاح پسندوں کی اس ڈھیلی ڈھالی چھتری کے نیچے کئی اور جماعتیں بھی شمار کی جاتی ہیں جو شاید اگر تیسری دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں تو رجعت پسند کہلائیں۔ (آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی یا سابق سپیکر حجت الاسلام ناطق نوری اگر پاکستان میں ہوتے تو انھیں ایک سرمایہ دار دائیں بازوں کے مولویوں کے طور پر مذہبی اور سیاسی لیڈر کہاجاتا! یہ دونوں اب اصلاح پسندوں کے کیمپ میں ہیں۔)

اس کے علاوہ جمیعت مبارزان روحانیان (مجاہد علما کی جماعت)، اصول گرایان اسلامی ( اصولیت پسند جماعت)، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، حزب مشارکت اسلامیت وغیرہ بھی اصلاح پسندوں کے اتحاد میں شامل ہیں۔ انہی میں اسلامی لیبر جماعت بھی ہے اور ان ہی اصلاح پسندوں میں سیکیولر یا جدید نظریات کی طرف جھکاؤ رکھنے والے دانشور اور شہری آزادیوں کے حامی بھی شامل ہیں۔ انقلاب مخالف ایرانی جو مغربی ممالک میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں وہ بھی انہی اصلاح پسندوں کے ساتھ شامل ہیں۔ دوسری طرف جس دھڑے کو قدامت پسند کہا جا رہا ہے اس کے کلیدی لیڈر محمود احمدی نژاد ہیں جو اس وقت ایران کے کم آمدنی والے عوامی حلقوں میں اپنی بظاہر غریب پرور پالیسیوں کی وجہ سے مقبول ہیں۔ ان پر اس وقت سب سے بڑا الزام ان کے مخالفین کی جانب سے یہی لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی دولت کو اپنی سیاسی مقبولیت کے لیے عوام میں لٹا دیا! ایسے لیڈر پر اسی قسم کی تنقید ہوگی جو اس وقت وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز پر مغربی اقتصادی ماہرین کر رہے ہیں۔ صنتی مزدوروں کی کئی یونینیں، مزدور تنظیمیں، سکولوں کے اساتذہ کی یونینیں، نچلے طبقوں کی کئی تنظیمیں، کسانوں کی کئی تنظیمیں اسلامی انقلاب سے کمٹمنٹ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے علما کی تنظیموں کے علاوہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نچلے طبقے کے بہت سارے سابق ملازمین بھی احمدی نژاد کے قدامت پسند دھڑے میں نظر آئیں گے۔
بارہ جون کے انتخابات کے بارے میں بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر محمود احمدی نژاد انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اگلے مرحلے میں ان کے اور میر حسین موسوی کے درمیان مقابلہ ہوگا اور ممکن ہے کہ اس مرتبہ وہ عوامل جن کا محمود احمدی نژاد کو دو ہزار پانچ کے انتخابات میں فائدہ ہوا تھا اب شاید میر حسین موسوی ان عوامل سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ تاہم محمود احمدی نژاد کی وہ حیثیت نہیں ہے جو ہاشمی رفسنجانی کی دوہزار پانچ کے انتخابات میں تھی! احمدی نژاد نہ بد عنوان کے طور پر مشہور ہیں اور نہ ہی وہ سابق صدر ہیں!



















