ایران: احمدی نژاد دوبارہ صدر منتخب

- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تہران
ایران کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد دوسری معیاد کے لیے صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اسی فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور اس میں احمدی نژاد کو پینسٹھ فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جبکہ ان کے اہم حریف میر حسین موسوی کے حصے بتیس فیصد ووٹ آئے ہیں۔
حسین موسوی نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ میں کئی طرح کی دھاندلیاں ہوئی ہیں۔
اس سے قبل حسین موسوی کے حامیوں نے کہا تھا کہ انہیں ساٹھ فیصد کے قریب ووٹ ملے ہیں۔
ایران کے الیکشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر کامران دانشجو نے دعویٰ کیا ہے کہ دسویں صدارتی انتخابات میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ ایرانیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہےاور اس طرح بقول ان کے بیاسی فیصد ٹرن آؤٹ کے ساتھ ایران میں پولنگ کا ایک نیا ریکارڈ بنا ہے۔ ایران میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد چار کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔
ایران میں بی بی سی کی ویب سائیٹیں بند کردی گئیں ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے تاہم پولنگ کے بعد سے جب بھی بی بی سی کی سائیٹوں پر جانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ تحریر لکھی ہوئی آتی ہے کہ ’فی الحال اس ویب سائیٹ تک رسائی ممکن نہیں ہے۔‘
حسین موسوی نے اس سے قبل کہا تھا کہ کئی جگہ پر بیلٹ پیپر کی کمی تھی اور لاکھوں لوگوں کو ان کا حقِ رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔

حسین موسوی نے کہا کہ ان کے الیکشن کے نگرانوں کو کئی پولنگ سٹیشنوں میں جانے نہیں دیا گیا اور وہ کسی بھی قسم کے فراڈ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے کہا ہے کہ احمدی نژاد ’واضح فاتح‘ ہیں۔
احمدی نژاد کے انتخابی مہم کے مینجر مجتبیٰ ھاشمی نے فارس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ابھی تک گنے گئے ووٹوں میں ان کے اور ان کے مخالفین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ ان کی فتح کے متعلق کسی قسم کے شک کا اظہار کرنے کو عوام ایک مذاق سمجھے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل موسوی نے کہا تھا کہ ان کی فتح یقینی ہے۔ موسوی کے حامیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تہران میں میر حسین موسوی کے مرکزی انتخابی دفتر پر پولیس اور موسوی کے حامیوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ ان کے مطابق، پولیس نے موسوی کے حامیوں پر آنسو گیس بھی پھینکی۔
دونوں امیدواروں کی جانب سے فتح کے دعووں کی وجہ سے دونوں کے حامیوں نے اپنی اپنی جگہ جشن منانا شروع کردیا۔
صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی حتمی گنتی سے پہلے ہی صدر محمود احمدی نژاد اور ان کے مد مقابل، سابق وزیراعظم میر حسین موسوی کی جانب سے فتح کے دعووں سے ایران میں سیاسی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ شہروں میں موسوی کی طاقت زیادہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ان کے حامی احمدی نژاد کی فتح ماننے سے انکار کر دیں۔
ایران کے دسویں صدارتی انتخابات میں اس مرتبہ پہلی بار امیدواروں کے درمیان ٹیلی ویژن پر مناظرے ہوئے جس میں احمدی نژاد نے اپنے ایک مخالف مہدی کروبی اور دوسرے مخالف کے ایک بڑے حامی ہاشمی رفسنجانی پر بد عنوانی کے الزامات لگائے تھے۔ دونوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا۔

اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر مناظروں کے دوران احمدی نژاد نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کے دفاع میں جو اعدادو شمار پیش کیے تھے انہیں ان کے مخالفین نے دروغ گوئی قرار دیا۔ اس کے جواب میں صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے مخالفین پر ہٹلر کی طرح پروپیگینڈا کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ٹیلی ویژن کے ان مناظروں کی وجہ سے جہاں سیاسی ماحول میں گہما گہمی بڑھ گئی وہیں امیدواروں کے حامیوں کے درمیان انتخابی مہم کے دوران کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ احمدی نژاد کو کم آمدنی والے اور دیہاتی علاقوں میں زیادہ مقبولیت حاصل ہے جبکہ شہروں میں بسنے والے متوسط طبقے، اور ایرن کے متمول طبقے میر حسین موسوی کی حمایت کر رہے ہیں۔
انتخابی مہم میں زبردست جوش و ولولہ پیدا ہوجانے کی وجہ سے اور شہری علاقوں میں ان کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف تنقید کی وجہ سے عوام نے ان کے خلاف ایک بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ جبکہ کم آمدن والے طبقوں نے احمدی نژاد کی حکومت کو برقرار رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔





















