ایران: محمود احمدی نژاد کی واضح فتح

آیت اللہ علی خامنائی نے انتخابات کے نتائج کو ایک جشن قرار دیا ہے
،تصویر کا کیپشنآیت اللہ علی خامنائی نے انتخابات کے نتائج کو ایک جشن قرار دیا ہے

ایران کے ویر داخلہ صادق محصولی نے اعلان کیا ہے کہ محمود احمدی نژاد اساڑھے چوبیس ملین ووٹ لیکر صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

اس طرح انھوں نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے باسٹھ فیصد حاصل کیے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ان کے مخالف امیدوار، میر حسین موسوی نے تیرہ ملین ووٹ حاصل کیے۔ میر حسین موسوی نے انتخابات کو فراڈ قرار دیا ہے۔ موسوی کے حامیوں نے وزارت داخلہ کے سامنے نتائج کے خلاف مظاہرہ بھی کیا جسے پولیس نے طاقت سے روک دیا۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے محمود احمدی نژاد کی چیت پر ان کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے بارہ جون کے دسویں صدارتی انتخابات میں ووٹروں کے بیاسی فیصد ٹرن آؤٹ پر ایرانی قوم کو مبارک دی ہے۔

انتخابات کے نتائج کے فوری اعلان کے بعد موسوی کے حامیوں نے انتخابات کے خلاف تہران کی بعض معروف اور مصروف شاہراہوں پر مظاہرے بھی کیے۔ وزیر داخلہ نے احمدی نژاد کی کامیابی کا اعلان دوپہر کے تقریباً تین بجے کیا۔ ان کا اعلان سرکاری ٹیلیویژن پر نشر کیاگیا۔

اعلان کے فوراً بعد ہی میر حسین موسوی کے حامیوں نے شمالی ایران کے علاقوں میں جہاں ان کی واضح اکثریت ہیں، نتائج کے خلاف چھوٹے چھوٹے مظاہرے کیے۔ تاہم تہران کی پولیس نے ان مظاہرین کو سختی سے کچل دیا۔

میدان ونک اور خیابان حقانی جو کہ شمالی تہران کے متمول علاقوں میں مصروف ترین چوراہے ہیں، وہاں جمع ہونے والے مظاہرین پر مقامی پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

خیابان حقانی پر بھی ایک چھوٹے سے مظاہرین کے گروہ کو پولیس کے آنے پر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ شمالی تہران کی وہ تمام جگہیں جہاں میر حسین موسوی کے حامیوں کے مظاہروں کا امکان ہے وہاں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

خیابان افریقہ پر سپیشل پولیس کے جوان جو سیاہ رنگ کی وردی پہنے ہوئے تھے موٹرسائیکلوں پر سوار کسی بھی جگہ مظاہروں کور روکنے کیلئے مستعدی کیساتھ تیار کھڑے تھے۔۔

موسوی کی حمایت میں جن مظاہرین نے نعرے بازی کی ان میں زیادہ تر نوجوان مرد اور خواتین تھیں۔تہران یونیورسٹی کے چند طلبا بھی مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔

ایسی بھی اطلاعات آئی ہیں کہ میر حسین موسوی کے حامیوں کی گاڑیوں پر احمدی نژاد کے حامیوں نے پتھراؤ کیا ہے۔ ایک گاڑی جس پر میر حسین موسوی کے سبز انتخابی رنگ کا پرچم لگا تھا اس پر سڑک پر کھڑے چند نوجوانوں نے پتھر مار کر اس کے شیشے توڑ دیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے تا ہم انھیں صبر اور ضبط کے مظاہرے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بارے میں کہا کہ اگر ایسی شکایتیں لائی گئیں تو شوریٰ نگہبان جو کے انتخابات کا نگراں ادارہ ہے ان پر قانونی کارروائی کرے گا۔

ایران کے الیکشن کمیشن کے مطابق بارہ جون کے دسویں صدارتی انتخابات میں چار کروڑ ساٹھ لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے بیاسی فیصد نے نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

موسوی کے حامیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تہران میں میر حسین موسوی کے مرکزی انتخابی دفتر پر پولیس اور موسوی کے حامیوں کے درمیان ٹکراو ہوا۔ ان کے مطابق، پولیس نے موسوی کے حامیوں پر آنسو گیس بھی پھینکی۔

انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے اعلان کے بعد ہی سے تہران کے مرکزی اور جنوبی حصوں میں میں احمدی نژاد کے حامیوں نے فتح کا جشن منانا شروع کردیا۔ گزشتہ رات احمدی نژاد کے حامی الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب ان کی فتح کے اعلان کے ساتھ ان کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر نعرے لگا رہے تھے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، احمدی نژاد نے دیہاتی علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں پر ہونے والے ووٹوں کی گنتی میں بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جبکہ میر حسین موسوی کو زیادہ تر ووٹ شہری علاقوں میں ملے ہیں۔

صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی حتمی گنتی سے پہلے ہی صدر محمود احمدی نژاد اور ان کے مد مقابل، سابق وزیراعظم میر حسین موسوی نے اپنی اپنی فتح کے دعوے کردیے تھے۔ مبصرین کا خدشہ ہے کہ میر حسین موسوی اگر نتائج تسلیم نہیں کرتے ہیں تو ایران سیاسی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔

ایران کے دسویں صدارتی انتخابات میں اس مرتبہ پہلی بار امیدواروں کے درمیان ٹیلی ویژن پر مناظرے ہوئے جس میں احمدی نژاد نے اپنے ایک مخالف مہدی کروبی اور دوسرے مخالف یعنی میر حسین موسوی کے ایک بڑے حامی، ہاشمی رفسنجانی پر بد عنوانی کے الزامات لگائے تھے۔ دونوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا۔

اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر مناظروں کے دوران احمدی نژاد نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کے دفاع میں جو اعدادو شمار پیش کیے تھے انھیں ان کے مخالفین نے اسے دروغ گوئی قرار دیا۔ اس کے جواب میں صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے مخالفین پر ہٹلر کی طرح پروپیگینڈا کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ٹیلی ویژن کے ان مناظروں کی وجہ سے جہاں سیاسی ماحول میں گہما گہمی بڑھ گئی وہیں امیدواروں کے حامیوں کے درمیان انتخابی مہم کے دوران کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ احمدی نژاد کو کم آمدنی والے اور دیہاتی علاقوں میں زیادہ مقبولیت حاصل ہے جبکہ شہروں میں بسنے والے متوسط اور ایرن کے متمول طبقے میر حسین موسوی کی حمایت کررہے ہیں۔

انتخابی مہم میں زبردست جوش و ولولہ پیدا ہوجانے کی وجہ سے اور شہری علاقوں میں ان کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف تنقید کی وجہ سے عوام نے ان کے خلاف ایک بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ جبکہ کم آمدن والے طبقوں نے احمدی نژاد کی حکومت کو برقرار رکھنے کا تہیہ کررکھا ہے۔