میری جیت عظیم فتح ہے: نژاد

محمود احمدی نژاد
،تصویر کا کیپشنبیرونی دنیا نے ایرانیوں کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کی ہوئی ہے

ایران کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر محمود احمدی نژاد نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں صدارتی انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کیا ہے ایرانی عوام آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔

اتوار کو ایران میں حضرت فاطمہ کی ولادت کے موقع پر عام تعطیل ہے اور ایران کی روایت کے مطابق اسے یوم خواتین اور یوم مادر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ محمود احمدی نژاد نے اس دن کی مناسبت سے اور انتخابات میں ریکارڈ ووٹ پڑنے کی وجہ سے ایرانی عوام کو جشن منانے کی دعوت دی۔

اس دوران ایران کے سربراہ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ انھوں نے احمدی نژاد کی کامیابی تسلیم کرتے ہوئے ایرانی عوام کو مبارک باد دی۔

تاہم نتائج کے اعلان کے بعد تہران کے شمالی حصوں میں مختلف مقامات پر رات کو بھی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں لوگوں نے انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے کیے۔ بعض جگہوں پر ٹائر اور گتے کے بڑے بڑے ڈبوں کو سڑک کے درمیان میں آگ لگا کر مظاہرین نے ٹریفک بند کرنے کی کوشش کی۔تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا۔

مظاہرین میر موسوی کی شکست اور محمود احمدی نژاد کی فتح کے نتائج کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ مگر جب بھی پولیس کے اہلکاروں کو دیکھتے تو گلی یا سڑکوں کی نکڑوں سے بھاگ جاتے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے حالات انتظامیہ کے قابو میں تھے۔

ایران میں مظاہرے

موبائیل ٹیلی فونوں کی سروس بند ہوجانے اور کئی ایک بین الاقوامی ویب سائیٹوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے تہران میں افواہوں کا راج شروع ہوگیا ہے۔ شمالی تہران کے امیر اور متمول علاقوں میں شہر میں دو مظاہرین کی ہلاکتوں کی افواہیں اور میر حسین موسوی اور ان کے چند ساتھیوں کی گرفتاریوں کی افواہیں گشت کررہی تھیں۔

تاہم جب ان کی تصدیق کے لیے میر حسین موسوی کے ایک دوست ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی۔ بہت زیادہ گہما گہمی والے انتخابات کے بعد ان کے نتائج کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے شمالی تہران میں رات کو سڑکیں سنسان تھیں۔

اس سے قبل ایران کے وزیر داخلہ صادق محصولی نے محمود احمدی نژاد کی انتخابات میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ٹیلی ویژن پر بتایا تھا کہ انھیں ساڑھے چوبیس میلین ووٹ ملے۔ اس طرح انھوں نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے باسٹھ فیصد حاصل کیے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ان کے مخالف امیدوار، میر حسین موسوی نے تیرہ میلین ووٹ حاصل کیے۔ میر حسین موسوی نے انتخابات کو فراڈ قرار دیا ہے۔ موسوی کے حامیوں نے وزارت داخلہ کے سامنے نتائج کے خلاف مظاہرہ بھی کیا جسے پولیس نے طاقت سے روک دیا۔

موسوی کی حمایت میں جن مظاہرین نے نعرے بازی کی ان میں زیادہ تر نوجوان مرد اور خواتین تھیں۔ تہران یونیورسٹی کے چند طلباء بھی مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ ایسی بھی اطلاعات آئی ہیں کہ میر حسین موسوی کے حامیوں کی گاڑیوں پر احمدی نژاد کے حامیوں نے پتھراؤ کیا ہے۔ ایک گاڑی جس پر میر حسین موسوی کے سبز انتخابی رنگ کا پرچم لگا تھا اس پر چند نوجوانوں نے پتھر مار کر اس کے شیشے توڑ دیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے تاہم انھیں صبر اور ضبط کے مظاہرے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بارے میں کہا کہ اگر ایسی شکایتیں لائی گئیں تو شوریٰ نگہبان، جو کے انتخابات کا نگراں ادارہ ہے، ان پر قانونی کارروائی کرے گا۔

ایران کے الیکشن کمیشن کے مطابق بارہ جون کے دسویں صدارتی انتخابات میں چار کروڑ ساٹھ لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے پچاسی فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، احمدی نژاد نے دیہاتی علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں پر ہونے والے ووٹوں کی گنتی میں بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جبکہ میر حسین موسوی کو زیادہ تر ووٹ شہری علاقوں میں ملے ہیں۔