سعودی شہزادی بلوں کی ادائیگی پر راضی

سعودی عرب کی ایک شہزادی جنہوں نے مبینہ طور پر پیرس میں ہزاروں ڈالر مالیت کی شاپنگ کی تھی، عدالتی حکمنامے کے بعد ان بلوں کی ادائیگی کے لیے راضی ہوگئی ہیں۔
سعودی عرب کے وزیر داخلہ کی اہلیہ مہر السودیری اب ایک سٹور کو ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر ادا کریں گی۔پیسوں کی ادائیگی کا حکم ایک عدالت نے دیا ہے جس سے قبل شہزادی کی ملکیت میں پائی جانے والی چیزوں کو عدالت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
عدالتی اہلکار نے پیرس کے شاں زے لیزے پر واقع لگژری جارج ہوٹل کا دورہ کیا تھا جہاں شہزادی مقیم ہیں۔ یہ ہوٹل شہزادی مہر کے بھتیجے کی ملکیت ہے۔ شہزادی کے شوہر کی سفارتی پوزیشن کے باعث ان کا کافی اثر و رسوخ ہے۔
شہزادی نے بل کی ادائیگی پر رضامندی عدالتی حکمنامے کے بعد ظاہر کی۔ انہوں نے کپڑوں کی ایک معروف ڈیزائنر دکان سے ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر کی شاپنگ کی تھی۔ دکان کے وکیل جیکی بنزیرہ نے کہا کہ بل کی ادائیگی کی کئی درخواستوں کو شہزادی کی طرف سے رد کیا جاتا رہا ہے جس کے بعد عدالتی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت تک رسائی کے بعد شہزادی کی طرف سے ایک مذاکرات کار نے کل رقم کا چیک ہمارے حوالے کیا ہے۔
تاہم پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہزادی پر پیرس کی کئی بڑے سٹورز کے بل قابل ادا ہیں۔ جارج ہوٹل کے سامنے ہی واقع ایک اور کپڑوں کے سٹور کا کہنا ہے کہ وہ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سعودی شہزادی اس طرح سے خبروں کی سرخیوں میں آئی ہیں۔ 1995 میں ان پر فلوریڈا میں ایک ملازم کی پٹائی کا الزام تھا جس پر شہزادی کو شبہ تھا کہ اس نے چوری کی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

















