احمدی نژاد کی ’فتح‘ پر ایران میں ہنگامے، سینکڑوں گرفتار

محمود احمدی نژاد
،تصویر کا کیپشنپولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے

ایران میں صدر محمود احمدی نژاد کی کامیابی کے بعد ملک میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد پولیس نےایک سو کے قریب اصلاحات پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں سابق صدر محمد خاتمی کے بھائی ایرانی پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی سپیکر بھی شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والے لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے صدارتی انتخاب کے ملک میں ہونے والے ہنگاموں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کی رات کو پولیس نے محمد خاتمی کے بھائی اور پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی سپیکر کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا ہے۔

احمدی نژاد کے حریف حسین موسوی کے بارے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ایران میں بی بی سی کے نمائندوں کے مطابق اتوار کے روز تہران میں کوئی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا لیکن پولیس سڑکوں پر روکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

اتوار کو ایران میں حضرت فاطمہ کی ولادت کے موقع پر عام تعطیل ہے اور ایران کی روایت کے مطابق اسے یوم خواتین اور یوم مادر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ محمود احمدی نژاد نے اس دن کی مناسبت سے اور انتخابات میں ریکارڈ ووٹ پڑنے کی وجہ سے ایرانی عوام کو جشن منانے کی دعوت دی۔

سنیچر کے روز صدر محمود احمدی نژاد کی انتخابات میں ’بھاری‘ کامیابی کے بعد تہران اور دوسرے شہروں میں ہنگامے ہوئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

صدر احمدی نژاد کےحریف میر حسین موسوی نے احمدی نژاد کی کامیابی کو ’فراڈ‘ قرار دیا ہے اور انتخابات کے نتائج میں رد وبدل کا الزام عائد کیا ہے۔ میر حسین موسوی نے البتہ اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ تشدد سے اجتناب کریں۔

ایران صدر نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اپنے دوبارہ انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدراتی انتخاب ’مکمل آزادانہ‘ تھا۔

ایرانی پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے بڑی پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے۔موٹر سائیکلوں پر سوار پولیس کے دستے شہر سے مظاہرین کو گرفتار کر رہے ہیں۔

ایران صدر نے کہا کہ بیرونی دنیا نے صدراتی انتخابات کے دوران ایران کے عوام کے خلاف ’نفسیاتی جنگ‘ کا آغاز کر رکھا تھا۔

سنیچر کو صدر احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہونے کےاعلان کے بعد ہزاروں مظاہرین نے تہران کی سڑکوں پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں اور کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی جن میں کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

موسوی کی حمایت میں جن مظاہرین نے نعرے بازی کی ان میں زیادہ تر نوجوان مرد اور خواتین تھیں۔ تہران یونیورسٹی کے طلباء بھی مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔

محمود احمدی نژاد نے دوبارہ منتخب ہونے پر کہا کہ ایران کے صدارتی انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کیا ہے ایرانی عوام آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔

اتوار کو ایران میں حضرت فاطمہ کی ولادت کے موقع پر عام تعطیل ہے اور ایران کی روایت کے مطابق اسے یوم خواتین اور یوم مادر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ محمود احمدی نژاد نے اس دن کی مناسبت سے اور انتخابات میں ریکارڈ ووٹ پڑنے کی وجہ سے ایرانی عوام کو جشن منانے کی دعوت دی۔

اس دوران ایران کے سربراہ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ انھوں نے احمدی نژاد کی کامیابی تسلیم کرتے ہوئے ایرانی عوام کو مبارک باد دی۔

ایران میں مظاہرے

موبائیل ٹیلی فونوں کی سروس بند ہوجانے اور کئی ایک بین الاقوامی ویب سائیٹوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے تہران میں افواہوں کا راج شروع ہوگیا ہے۔ شمالی تہران کے امیر اور متمول علاقوں میں شہر میں دو مظاہرین کی ہلاکتوں کی افواہیں اور میر حسین موسوی اور ان کے چند ساتھیوں کی گرفتاریوں کی افواہیں گشت کررہی تھیں۔

اس سے قبل ایران کے وزیر داخلہ صادق محصولی نے محمود احمدی نژاد کی انتخابات میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ٹیلی ویژن پر بتایا تھا کہ انھیں ساڑھے چوبیس میلین ووٹ ملے۔ اس طرح انھوں نے کل ڈالےگئے ووٹوں میں سے باسٹھ فیصد حاصل کیے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ان کے مخالف امیدوار، میر حسین موسوی نے تیرہ میلین ووٹ حاصل کیے۔ میر حسین موسوی نے انتخابات کو فراڈ قرار دیا ہے۔ موسوی کے حامیوں نے وزارت داخلہ کے سامنے نتائج کے خلاف مظاہرہ بھی کیا جسے پولیس نے طاقت سے روک دیا۔

موسوی کی حمایت میں جن مظاہرین نے نعرے بازی کی ان میں زیادہ تر نوجوان مرد اور خواتین تھیں۔ تہران یونیورسٹی کے چند طلباء بھی مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ ایسی بھی اطلاعات آئی ہیں کہ میر حسین موسوی کے حامیوں کی گاڑیوں پر احمدی نژاد کے حامیوں نے پتھراؤ کیا ہے۔ ایک گاڑی جس پر میر حسین موسوی کے سبز انتخابی رنگ کا پرچم لگا تھا اس پر چند نوجوانوں نے پتھر مار کر اس کے شیشے توڑ دیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے تاہم انھیں صبر اور ضبط کے مظاہرے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بارے میں کہا کہ اگر ایسی شکایتیں لائی گئیں تو شوریٰ نگہبان، جو کے انتخابات کا نگراں ادارہ ہے، ان پر قانونی کارروائی کرے گا۔

ایران کے الیکشن کمیشن کے مطابق بارہ جون کے دسویں صدارتی انتخابات میں چار کروڑ ساٹھ لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے پچاسی فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، احمدی نژاد نے دیہاتی علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں پر ہونے والے ووٹوں کی گنتی میں بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جبکہ میر حسین موسوی کو زیادہ تر ووٹ شہری علاقوں میں ملے ہیں۔