ایران میں تشدد تکلیف دہ ہے: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایرانی انتخابات کے بعد تشدد کے واقعات سے انہیں تکلیف ہوئی ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت سے کہا کہ وہ آزادی اظہار کے حق اور جمہوری عمل کا احترام کرے۔
براک اوباما نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے حکومت کی طرف سے مظاہروں پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے تہران میں حزب اختلاف کی ایک ریلی میں شرکت کی۔ مظاہروں کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک بھی ہو گیا۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن بِیل نے کہا کہ امریکی صدر اوباما نے اپنے بیان میں ایران کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر تبصرے سے احتراز کیا۔ صدر اوباما نے کہا کہ وہ ایران کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ایران کے اندرونی معاملات میںامریکہ موضوع بحث بنے۔
اس سے پہلے پیر کے روز لاکھوں لوگوں نے تہران کی سڑکوں پر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ایرانی انتخابات میں شکست کھانے والے صدارتی امیدوار حسین موسوی نے بھی حکومتی پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تہران میں ریلی میں شرکت کی۔
انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا ووٹ موسوی یا کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اہم ہے۔
ایرن کے رہنمائے اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے اصلاح پسند امیدوار حسین موسوی سے کہا تھا کہ وہ صدارتی انتخاب سے متعلق اپنی شکایت کی قانونی طور پر پیروی کریں جس کے بعد جناب موسوی نے مجلس خبرگان سے باضابطہ شکایت کر دی ہے۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ پیر کو نکلنے والی ریلی اسلامی جمہوریہ میں تیس سال میں سب سے بڑی ریلی تھی۔ انہوں نے اس ریلی کے لیے ’سیاسی زلزلہ‘ کی اصطلاح استعمال کی۔
دریں اثناء حسین موسوی نے منگل کے روز بھی ایک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے جو پہلے ہی انتخابی نتائج کو درست قرار دے چکے ہیں انتخابات کے بارے میں شکایات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ یورپی یونین میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ نے انتخابات کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس اور جرمنی نے ایران کے سفیروں کو طلب کر کے ان سے وضاحت بھی طلب کی۔ جرمنی کی چانسلر اینجلا مارکل نے مظارین کے خلاف طاقت کے استعمال پر کڑی تنقید کی۔
جہاں انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں وہیں پر نامہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو بھی لاکھوں ایرانیوں کی حمایت حاصل ہے۔ احمدی نژاد کے حامی پیر کو فرانسیسی اور برطانوی سفارتخانوں کے باہر جمع ہوئے اور ایران کے اندرونی معاملات میں ان کی ’مداخلت‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ وہ برطانویوں اور دیگر دنیا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ایران میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔



















