پابندی کے باوجود ایران میں احتجاج

پیر کو شکست خوردہ صدارتی امیدوار کے حمایتیوں اور ڈنڈے لہراتے ان موٹر سائیکل سواروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ صدر احمدی نژاد کے طرفدار تھے
،تصویر کا کیپشنپیر کو شکست خوردہ صدارتی امیدوار کے حمایتیوں اور ڈنڈے لہراتے ان موٹر سائیکل سواروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ صدر احمدی نژاد کے طرفدار تھے

ایرانی انتخابات میں شکست کھانے والے صدارتی امیدوار حسین موسوی نے حکومتی پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے کے نتائج کے خلاف ایک بہت بڑی ریلی میں شرکت کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی ایف کے مطابق مسٹر موسوی نے تہران میں ہزاروں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

موسوی جمعہ کو ہونے والے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں صدر احمدی نژاد کو یقینی بنوایاگیا ہے۔

تاہم احمدی نژاد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔

پیر کو مظاہرین تہران کے انقلابی چوک میں جمع ہوئے اور موسوی کے حق میں نعرے بازی کی۔

کئی مظاہرین نے موسوی کا "سبز انتخابی" رنگ پہن رکھا تھا اور ان کے نعرے تھے ’موسوی ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم مر جائیں گے لیکن اپنے ووٹ واپس نکلوائیں گے۔‘

اور بعد میں موسوی ان مظاہرین کے درمیان آ گئے اور اپنی گاڑی کی چھت سے انہیں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ووٹ موسوی یا کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اہم ہے۔موسوی کی اہلیہ نے بھی کہا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق موسوی کے آنے سے قبل ان کے حمایتیوں اور ڈنڈے لہراتے ان موٹر سائیکل سواروں کے درمیان جھگڑے ہوئے جو بظاہر صدر احمد نژاد کے حامی تھے۔

دو روز کے مظاہروں کے بعد وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ عوامی سکیورٹی کو خراب کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔