ایران میں احتجاج کا ذمہ دار کون؟

- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
ایران میں بارہ جون کے انتخابی نتائج کے رد عمل میں ہونے والے مظاہرے جاری ہیں اور ان کے فوری طور پر رکنے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔ احمدی نژاد کے حریف میر حسین موسوی نے جمعرات کو ان افراد کی روح کے ایصال ثواب کےلیے مسجدوں میں مجالس کرانے کا اعلان کیا ہے جو گزشتہ سوموار کو آزادی چوک کے قریب ایک فوجی چوکی پر مبینہ حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کو ایرانی جہوریت کے شہدا قرار دیا ہے۔
ان کا یہ اعلان ایران کی روایتی سیاست سے سرکشی کا اشارہ ہے تا ہم وہ انقلاب اسلامی کے نظام کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے اپنی مزاحمت جاری رکھنا چاہتے ہیں تا کہ وہ بڑے بڑے شیعہ مجتہدین کی حمایت سے محروم نہ ہوجائیں۔ انھوں نے بارہ جون کے انتخابات پر سب سے پہلے قم کے مجتہد کی حمایت حاصل کرنے کےلیے انھیں خطوط لکھے تھے۔
میر حسین موسوی کواب تک ماسوائے آیت اللہ صانعی کے سب ہی کی طرف سے صبر و ضبط کے جوابی پیغامات ملے ہیں۔ آیت اللہ صانعی قم کے علما میں ایک متنازعہ مجتہد کے طور پر مشہور تو بہت ہیں مگر ان کی تقلید کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
جبکہ ایک اور سینئیر آیت اللہ زنجانی نے تو مظاہرے کی سیاست کو غلط قرار دیا ہے۔ ایک اور بڑے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے خبردار کیا ہے کہ جھگڑے سے کسی امیدوار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ البتہ آیت اللہ حسین منتظری نے انتخابی نتائج کو غلط قرار دیا ہے۔
قم کے بعض مراجع نے تو میر حسین موسوی کو کم و بیش ویسے ہی الفاظ میں قانون پرچلنے کی تلقین کی جیسی کہ آیت اللہ خامنہ ای نے کی ہے۔ ان حالات میں نہ صرف ایران کے اندر بلکہ ایران کے باہر بھی مغربی تجزیہ نگار ایران کے انتخابات کے بعد کے بحران کو انقلاب اسلامی کی روایتی قیادت کی اندرونی طور پر پاور پولیٹیکس کی رسہ کشی کا مظہرسمجھتے ہیں۔
اس مرتبہ دسویں صدارتی انتخابات میں جوش و ولولہ بڑھنے کی ایک وجہ ٹیلی ویژن پر امیدواروں کے درمیان براہ راست مناظرے بھی تھے جن کے نتیجے میں عوامی دلچسپی بے مثال انداز میں دیکھنے میں آئی۔ لیکن ان مناظروں کے دوران ایرانی سیاست میں نئی روایات بھی شروع ہوئیں، خاص کریہ کہ ایسی شخصیتیں جنھیں اس حد تک مقدس سمجھا جاتا تھا کہ کسی کو ان پر تنقید کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی، ان پر احمدی نژاد نے بد عنوانی کے الزامات بر سرعام عائد کیے۔
اب تک ایرانی سیاست میں انقلاب کے صف اول کے رہنماؤں جن میں ہاشمی رفسنجانی اور ناطق نوری کو تنقید سے بالا سمجھا جاتا تھا، ان پر موجودہ صدر احمدی نژاد نے کھل کر اقربا پروری اور حد سے زیادہ دولت بنانے کے الزامات عائد کیے۔
رفسنجانی پر بد عنوانی کے الزامات کوئی نئی بات نہ تھی مگر ایک صدر کی جانب سے سرعام ٹیلی ویژن پر الزامات عائد کرنا ایرانی سیاست میں ایک نئی بات تھی۔ محمود احمدی نژاد نے تو یہاں تک کہا کہ انقلاب ایران سے عام آدمی کو فائدہ پہنچا یا نہیں البتہ ایک سابق صدر کی اولادیں ارب پتی ضرور بن گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احمدی نژاد نے جب یہ الزامات عائد کیے تو رفسنجانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط کے ذریعے دھمکی آمیز انداز میں انتباہ کیا کہ اگر ایسے الزامات لگتے رہے تو انقلاب کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گیں۔
رفسنجانی نے جب خامنہ ای کو خط لکھا تو ایرانی مزاج کے برعکس سلام دعا بھی تحریر نہیں کی تھی۔ رفسنجانی کے اس خط پر قم کے علما نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔ ان کے اس خط کے شائع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد قم کے علما اور اساتذہ کی تنظیموں کی ویب سائیٹوں پر اس خط کے بارے میں تنقید شائع ہونے لگی۔
بارہ جون کے دن جب ہاشمی رفسنجانی کی اہلیہ نے ووٹ ڈالا تھا تو انھوں نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی نہ ہوئی تو میر حسین موسوی صدر منتخب ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ رفسنجانی کے گروپ کی طرف سے انتخابی نتائج کے بارے میں پہلے ہی سے ایک شک کی فضا پیدا کرنے کی کوشش تھی۔
ایران ڈیلی کے ایڈیٹر طاہر پور کے مطابق، رفسنجانی کی بدعنوانی کی باتیں پہلے ہی زبان زد عام تھیں مگر جب احمدی نژاد نے یہ الزامات ٹیلی ویژن پر مناظروں کے دوران کہیں تو انھوں نے ایک عام ایرانی کے دل کی بات کہی۔
رفسنجانی نے انتخابی مہم کے دوران پاسداران انقلاب ، رضاکار انقلابی گارڈز کی کمانڈ سپریم لیڈر سے لے کر صوبائی گورنروں کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔رفسنجانی نے یہ تجویز پیش کر کے اشارہ دیا کے وہ سپریم لیڈر کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں۔
ہاشمی رفسنجانی نے اپنے آپ کو سیاسی طور پر بحال کرنے کےلیے مجلس خبرگان رہبری کا انتخاب لڑا جس میں ان کی کسی نے زیادہ مخالفت نہ کی۔ مجلس خبرگان رہبری کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے منظر سے ہٹنے کی صورت میں اس کے جانشین کا انتخاب کرے۔ رفسنجانی نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کےلیے وہ طریقے استعمال کیے جو اب تک قم کے علما میں معیوب سمجھے جاتے تھے۔
ایران کے آئین کے مطابق تمام دفاعی اداروں کے سربراہ کا تقرر، اعلیٰ عدالتوں کے سربراہوں کی تقرری، نشریاتی اداروں کے سربراہوں کی تقرری سپریم لیڈر کرتا ہے۔انقلابی گارڈدز اور اہم قومی اور سلامی امور پر حتمی فیصلہ بھی سپریم لیڈر کا ہوتا ہے۔ اگر رفسنجانی خود ہی سپریم لیڈر بن جائیں یا کسی اپنے زیر اثر مرجع کو سپریم لیڈر بنانے میں کامیاب ہوجائیں تو پھر ایران کی تمام سیاسی، اقتصادی اور فوجی طاقت ان کے پاس آ جائے گی۔
یہ بات اب ایران کے عوام میں ایک کھلے راز کی طرح زیر بحث ہے اور یہی بات ہے کہ احمدی نژاد کے حمایت میں جو جلسے یا جلوس منعقد ہوئے ہیں ان میں کئی ایک قسم کے نعروں کے علاوہ یہ بھی نعرہ گونج رہا ہے کہ سپریم لیڈر کے دشمنوں کو پھانسی دو۔
ان ہی حالت کے پس منظر میں ایران میں اب کہا جا رہے کہ اگر محمود احمدی نژاد کے حق میں انتخابی نتائج برقرار رہتے ہیں تو ہاشمی رفسنجانی کا سیاسی مستقبل تاریک ہے اور اگر احمدی نژاد کے خلاف فیصلہ ہوجاتا ہے تو علی خامنہ ای سیاسی طاقت سے محروم ہوجائیں گے۔ اور اگر انتخابی دھاندلی کے نام پر کوئی سیاسی تحریک شروع ہوتی ہی تو سیاسی حالات جوں کے توں رہیں گہ مگر نہ ہاشمی رفسنجانی پر کوئی ہاتھ ڈال سکے گا اور نہ سپریم لیڈر خامنہ ای کو آئینی عہدے سے محروم کیا جا سکے گا، البتہ اس صورت میں ایران سیاسی اور اقتصادی بحران کا شکار ضرور ہو جائیگا جس کے نتیجے میں کسی بھی بین الاقوامی جوڑ توڑ میں طاقت ور پوزیشن کے ساتھ حصہ نہ لے سکےگا۔




















