ایران: ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو گی

ایران میں شوریٰ نگہبان صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے کے لیے تیار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق شوریٰ نگہبان نے یہ فیصلہ منگل کو کیا ہے۔
انتخابی نتائج اور صدر احمدی نژاد کی فتح کے اعلان کے بعد ایران میں تین دن سے احتجاج ہو رہا ہے۔ صدر احمدی نژاد کے مخالف امیدواروں نے ان پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ مخالف امیدواروں کو یہ فیصلہ منظور نہ ہو۔
احتجاج کے پیش نظر شوریٰ نگہبان نے انتخابی نتائج کو عبوری قرار دے دیا تھا اور منگل کو صدر احمدی نژاد کے تینوں مخالف امیدواروں سے بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای صدر نےاحمد نژاد کے مخالفین کی طرف سے انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا تھا۔
پیر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے اور حسین موسوی نے اپنے حمایتیوں کو کہا ہے کہ وہ منگل میں ہونے والے جلسے میں تشدد کے پیشِ نظر شرکت نہ کریں۔

موسوی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان کا صدر دفتر لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ تشدد کے سوچے سمجھے جال میں نہ پھنسیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے احتجاج اور ’غیر قانونی جلسوں‘ کی کوریج پر سخت پابندیاں لگا دی ہے۔
ایران کی شوریٰ نگہبان نے کہا ہے کہ جن علاقوں میں ہارنے والے امیدواروں نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے وہاں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔
تاہم شوریٰ کے ترجمان نے قومی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ شوریٰ انتخابات کو کالعدم نہیں کرے گی جیسا کہ اصلاح پسند امیدوار مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے ایران کے سرکاری ریڈیو کے مطابق دارالحکومت تہران میں پیر کو صدر محمود احمد نژاد کی انتخابی جیت کے خلاف مظاہروں میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق یہ ہلاکتیں تہران میں آزادی سکوائر میں احتجاجی ریلی کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ہوئیں۔ درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں سابق صدر محمد خاتمی کے قریبی ساتھی محمد علی ابتاہی بھی شامل ہیں۔ ان کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں تہران میں ان کے گھر سے منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔
پیر کو احتجاجی ریلی پر پابندی کے باوجود اس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔ ایران میں تیس سال پہلے کے اسلامی انقلاب کے بعد سے یہ ملک میں ہونے والے سب سے بڑے جلسوں میں شامل ہے۔
ایران کی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے تہران یونیورسٹی میں طلبہ کے ہاسٹل پر پولیس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزارتِ داخلہ اس کی ذمہ دار ہے۔‘
ادھر کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر احمدی نژاد کے لیے حکام کی حمایت میں کچھ کمی معلوم ہوتی ہے۔





















