ایران انتخابی تنازعہ

حسین موسوی
،تصویر کا کیپشنمیر حسین موسوی نے ابتدائی نتائج کی بنیاد پر انتخابی فتح کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ایران میں صدارتی انتخابات میں شکست کھانے والے امیدوار میر حسین موسوی نے حکومت پر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک کے مقتدر ادارے سے نتائج کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے جس پر منگل کو غور ہوگا۔

میر حسین موسوی اور ان کے ساتھ ایک اور ہارنے والے صدارتی امیدوار میر رضائی نے بنیادی طور پر انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کو دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ حسین موسوی نے اپنے الزامات شوریٰ نگہبان اور کچھ علماء کے نام خط میں بیان کیے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کے پولنگ ایجنٹ کو کارڈ بروقت نہیں ملے اور وہ پولنگ سٹیشنوں پر نہیں پہنچ سکے، ان کے جلسے بہت بڑے بڑے ہوئے تھے لیکن وہ ہار گئے اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ محمود احمدی نژاد نے اپنی انتخابی مہم میں سرکاری سہولتیں استعمال کی ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حسین موسوی کو ٹیلی ویژن پر احمدی نژاد کے برابر وقت نہیں ملا اور یہ بھی کہ بعض جگہوں پر ان کے حامیوں کو ہراساں کیا گیا۔

تاہم ابھی تک ان کی طرف سے کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے کوئی بے قاعدگی ثابت کی جا سکے۔

حسین موسوی نے یہ بھی کہا کہ انہیں رائے عامہ کے جائزوں میں کامیاب دکھایا جا رہا تھا لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے ایران میں رائے عامہ کے جائزے غیر جانبدار نہیں ہوتے۔

المختصر یہ کہ ابھی تک کوئی ایسی بڑی بے قاعدگی ثابت نہیں کی گئی جس سے ووٹوں میں جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کے درمیان اتنے بڑے فرق کا جواز پیش کیا جا سکے۔

حسین موسوی کو تینتیس فیصد ووٹ پڑے ہیں اور احمدی نژاد کو باسٹھ فیصد۔ اتنے بڑے فرق کے لیے یا تو کوئی بہت بڑی بے قاعدگی ہونا ضروری ہے کیونکہ جس طرح کے الزامات انہوں نے لگائے ہیں اس سے ووٹوں میں اتنا بڑا فرق ڈالا نہیں جا سکتا۔

جہاں تک ہزارہا لوگوں کے سڑک پر آجانے کا سوال ہے تو اس کے لیے سمجھنا پڑے گا کہ ایران کی سیاست تقسیم شدہ سیاست ہے۔ ایران میں شہر کے لوگوں کی اکثریت حسین موسوی کے ساتھ ہے جبکہ کم آمدنی والے اور دیہاتی لوگوں کی اکثریت احمدی نژاد کے ساتھ ہے۔

تہران میں ستر لاکھ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ ان میں سے شہر کے شمالی حصے میں رہنے والے امیر اور متوسط طبقے کے لوگوں نے موسوی کو ووٹ ڈالے جبکہ شہر کے جنوب کی غریب آبادیوں میں احمدی نژاد کو ووٹ ڈالے گئے۔

تہران میں موسوی کے حامی لوگ بہت فعال ہیں اور ان کا اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں میں آجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اگر ایک شہر میں تیس پینتیس لاکھ ووٹ حسین موسوی کو ملے ہیں تو ان میں سے ایک یا دو لاکھ لوگوں کا سڑک پر آ جانا حیران کن نہیں۔

موجودہ صورتحال میں زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ بحران بڑھتا چلا جائے گا اور ایران کی موجودہ قیادت جس طرح کا استحکام چاہتی وہ پیدا نہیں ہوگا۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ احمدی نژاد کے حامی جو زیادہ تر مذہبی اور قدامت پسند لوگ ہیں وہ بھی سڑکوں پر آ جائیں گے تو تصادم اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

اب سب لوگ اس صورتحال سے گریز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کا احساس میر حسین موسوی اور دوسرے رہنماؤں کو بھی ہو رہا ہے کہ بات لیڈروں کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور لوگوں میں تصادم ہوگیا تو وہ کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔