مظاہروں میں دس افراد ہلاک: ایرانی ٹی وی

ایرانی ٹی وی کی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سنیچر کو پولیس سے جھڑپوں کے دوران کم از کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ جھڑپوں میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ٹی وی کے مطابق انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے کرنے والے مشتعل افراد نے سنیچر کودو پٹرول سٹیشنوں اور ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ کہا جارہا ہے کہ مظاہرین نے ایک پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا۔
اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر بتایا گیا تھا کہ تہران میں امن و امان کی صورتحال بحال ہوچکی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر ان افراد کو ’دہشتگرد‘ قرار دیا گیا ہے۔
دریں اثناء امریکی صدر براک اوبامہ نے ایران کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ عوام کے خلاف تشدد آمیز اور غیر منصفانہ کارروائی کو روکا جائے۔
تہران میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے لاٹھی چارج، فائرنگ، آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انتخابی نتائج سے نالاں ہزاروں افراد نے ایران کے اعلیٰ رہنما خامنہ ای کی احتجاج ختم کرنے کی تنبیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے تہران میں مظاہرے کیے۔
اوباما نے ایرانی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ تشدد آمیزی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے عوام کی مرضی کے ساتھ چلیں۔انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ اوباما نے کہا کہ 'چند حلقوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے سخت بیانات پر انہیں شدید تشویش ہے اور ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی نظریں اس کے معاملات پر ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ایرانی حکام کو پر امن طور پر پیش آنا چاہیے۔
ادھرحسین موسوی نےاعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ’شہادت‘ تک منصفانہ انتخابات کےلیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔میر حسین موسوی نے اپنی گرفتاری کی صورت میں اپنے حامیوں سے ملک گیر ہڑتال کرنے کے لیے کہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ حکومت مظاہرین کواحتجاج کرنے سے نہ روکے۔ اوباما نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران اپنے لیے کیا سمت متعین کرتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق موسوی نے جنوبی تہران میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’شہادت‘ کے لیے تیار ہیں اور کہا کہ وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے ایران کے اعلی ترین قانون ساز ادارے کے نام ایک خط میں الزام لگایا تھا کہ صدارتی انتخاب میں دھندلی کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا اس لیے انتخاب کو مکمل طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔
پولیس نے مظاہرے سے قبل ہی عوام سے کہا تھا کہ وہ ریلی کے لیے جمع نہ ہوں تاہم اس تنبیہ کے باوجود عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں افراد تہران کے انقلاب چوک پہنچ گئے۔ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کو ریلی میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کو مارتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے انقلاب چوک کے قریب واقع تہران یونیورسٹی کے سامنے ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان افراد جمع ہوئے۔
انقلاب چوک میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اس آپریشن میں پولیس کے علاوہ ملٹری پولیس، اور نیم فوجی دستے بھی شریک ہیں۔
جمعہ کے خطبے میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے تنبیہ کی تھی کہ اگر ملک میں مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری مظاہروں کے قائدین پر ہوگی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے نمازِ جمعہ کے بعد اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’انتخابات کے بعد براہِ راست تصادم قبول نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طرزِ عمل جمہوریت اور خود انتخابات کو چیلنج کر رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ یہ طریقہ ختم کر دیں۔ اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کے نتائج اور فساد کی ذمہ داری ان افراد کے کاندھوں پر ہوگی جنہوں نے اسے ختم کرنے سے انکار کیا۔

یہ واضح نہیں کہ سنیچر کو نکلنے والی ریلی میں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے شرکت کی یا نہیں۔ ریلی سے قبل سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر میر حسین موسوی کی اہلیہ زہرہ رہ نورد نے لکھا تھا کہ ریلی اپنے پروگرام کے مطابق نکلے گی جبکہ مہدی کروبی کے ساتھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ریلی میں میر حسین موسوی اور ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند رہنما محمد خاتمی بھی شرکت کریں گے۔
ادھر ایران میں شورائے نگہبان نے بارہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈالے جانے والے دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانے کی پیشکش کی ہے۔ سنیچر کو ناکام صدارتی امیدواروں کی شکایات سننے کے لیے بلائے جانے والے اجلاس کے بعد شورٰی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ شورٰی دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے تیار ہے۔توقع کی جا رہی تھی کہ اس اجلاس میں انتخابات میں شکست کھانے والے تینوں اہم امیدوار میر حسین موسوی، مہدی کروبی اور محسن رضائی شورائے نگہبان کے سامنے انتخابی عمل پر اپنے چھ سو سے زائد اعتراضات پیش کریں گے تاہم صرف محسن رضائی نے ہی اس اجلاس میں شرکت کی۔
بارہ جون کو ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کے نتائج کے مطابق موجودہ صدر محمود احمدی نژاد نے تریسٹھ فیصد جبکہ میر حسین موسوی نے چونتیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان نتائج کے اعلان کے بعد ایران میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔




















