’ایران میں تشدد قابلِ مذمت ہے‘

احمدی نژاد
،تصویر کا کیپشنشورٰی کے ترجمان نے احمدی نژاد کو واضح طور پر کامیاب قرار دیا

جی ایٹ کے وزرائے خارجہ نے ایران میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے جبکہ ایران کی شورائے نگہبان کے ترجمان نے ماہِ رواں کے دوسرے ہفتے میں ہونے والے صدارتی انتخاب کو شفاف اور محمود احمدی نژاد کو واضح طور پر کامیاب امیدوار قرار دیا ہے۔

بارہ رکنی شورٰی کے ترجمان عباس علی کادخدائی نے کہا ہے کہ ’شورائے نگہبان صدارتی انتخاب کے شکست خودرہ امیدواروں کی شکایات کا جائزہ تقریباً مکمل کر چکی ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ اس انتخاب میں کوئی بڑی خلاف ورزی دیکھنے میں نہیں آئی‘۔

شورائے نگہبان آنے والے دو دن میں باقاعدہ طور پر اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والی ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شورٰی کے ترجمان کے بیان کے بعد یہ ایک رسمی کارروائی ہی ہوگی۔ خیال رہے کہ شورٰی صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والے امیدوار میر حسین موسوی کی جانب سے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی اپیل پہلے ہی رد کر چکی ہے۔

اٹلی میں جی ایٹ ممالک کے وزرائِے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں تاہم ’ایران میں انتخابات کے بعد ہونے والا تشدد اور اس میں ایرانی شہریوں کی جانوں کا زیاں قابلِ مذمت ہے‘۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اس بحران کو جمہوری بات چیت اور پرامن ذرائع سےحل کرنا چاہیے‘۔

ادھر ایران کے ایک قدامت پسند عالم نے نمازِ جمعہ کے خطبے میں عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو مظاہروں پر اکسانے والوں کوکڑی سزا دیں۔ احمد خاتمی نے جامعۂ تہران میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ عدلیہ مظاہروں کے قائدین کو سخت سزا دیں اور ان سے کوئی نرمی نہ برتیں تاکہ ہر کسی کو اس سے سبق ملے‘۔

جمعرات کو ایران میں حزبِ اختلاف کے رہنما میر حسین موسوی نے کہا تھا کہ وہ حالیہ احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کا ذمہ دار صدارتی انتخاب میں ’دھاندلی‘ کرنے والوں کو ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے کہا کہ وہ مستقبل میں احتجاجی مظاہرے اس طرح کریں کہ ’جس سے کوئی تناؤ پیدا نہ ہو‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے لوگوں سے ملنے پر مکمل پابندیاں لگائی گئی ہیں اور ان کے میڈیا گروپ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں ذاتی مفاد اور دھمکیوں کے خوف سے ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرنے سے دستبردار نہیں ہوں گا۔‘

دریں اثناء امریکہ اور ایران کے درمیان میں حالیہ تند و تیز جملوں کے تبادلوں کی نئی لہر میں امریکہ نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کے متنازعہ صدارتی انتخاب کے نتائج کے بعد ہونے والی بدامنی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز ایرانی صدر کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کر رہے تھے جس میں احمدی نژاد نے کہا تھا کہ امریکہ کے صدر اوباما ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر اوباما نے مسٹر احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کی گئی کارروائی پر غم و غصہ کا اظہار کیا تھا جس پر ایرانی صدر نے کہا تھا کہ صدر اوباما کا تبصرہ ان کے پیشرو جارج ڈبلیو بش کی طرح لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت تک بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے جب تک صدر اوباما معافی نہیں مانگ لیتے۔