دنیا کی نظریں ایران پر ہیں: اوباما

اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے کہا کہ وہ پرتشدد احتجاج سے گریز کریں
،تصویر کا کیپشناس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے کہا کہ وہ پرتشدد احتجاج سے گریز کریں

امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی نظریں اس کے معاملات پر ہیں۔

اس سے قبل ایران کے رہنما اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے کہا ہے کہ وہ احتجاجی جلسوں اور جھڑپوں سے گریز کریں اور قانوں کے دائرے میں رہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ملک میں ’خونریزی‘ ہوئی تو اس کی ذمہ داری احتجاج کرنے والے رہنماؤں پر عائد ہوگی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے صدر احمدی نژاد کے انتخاب کی حمایت کی اور مغربی ممالک اور میڈیا پر سخت تنقید کی ہے۔

ملک میں مزید احتجاجی جلسوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ شورائے نگہبان صدر کے مخالفین سے سنیچر کو ایک اہم اجلاس کررہی ہے۔ شورائے نگہبان نے شکست خوردہ امیدوار میر حسین موساوی اور اصلاح پسند مہدی کروبی کے علاوہ قدامت پسند محسن رضا کو ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔ موساوی نے انتخابات کے غیر شفاف ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ’چند حلقوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے سخت بیانات پر انہیں شدید تشویش ہے اور ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی نظریں اس کے معاملات پر ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ایرانی حکام کو پر امن طور پر پیش آنا چاہیے۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے ایران میں کیے جانے والے مظاہروں کو ’غیر معمولی اور حوصلہ افزا‘ قرار دیا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو رد کرتے ہیں اور اسلامی انقلاب کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاشمی رفسنجانی اور صدر احمدی نژاد میں خارجہ پالیسی اور سماجی امور پر اختلاف رائے ہے تاہم ان کی اپنی رائے صدر احمدی نژاد کے قریب تر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخاب سے پہلے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا اور عوام نے خود فیصلہ کیا کہ وہ کس کو صدر بنانا چاہتے ہیں۔

جمعہ کو اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے غیر ملکی طاقتوں اور میڈیا پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے ان ممالک کو ’مغرور‘ اور گمراہ کن قرار دیا اور برطانیہ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اوباما
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ مغربی ممالک کے جو سفارتکار ماضی میں بہت اچھی طرح پیش آتے تھے وہ گزشتہ چند دنوں میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔ آیت اللہ کے مطابق ان ممالک کے اصلی رنگ اب سامنے آگئے ہیں اور وہ در اصل ایران کے دشمن ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ان ممالک میں سب سے منفی کردار برطانوی حکومت کا ہے۔

انہوں نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ایران کے بارے میں شاید یہ غلط فہمی تھی کہ یہ جارجیا ہے جہاں وہ ایک ’ویلوٹ روولوشن‘ لے کر آسکیں گے۔

بارہ جون کو ملک میں ہونے والے صدراتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کے بعد ایران میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوگیا اور لاکھوں کی تعداد میں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

بارہ جون کے صدارتی انتخاب میں احمدی نژاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہوگئے تھے لیکن حزب مخالف نے اس انتخاب پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔