بغداد میں کار بم دھماکہ 34 ہلاک

عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے
،تصویر کا کیپشنعراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں بدھ کو ایک کار بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہر کے شمال مغربی علاقے میں ایک کھڑی گاڑی میں ہونے والے اس دھماکے میں کم از کم 72 لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے ایک غریب شیعہ اکثریتی علاقے میں ایک مشہور ریسٹورانٹ کے باہر ہوا۔

گزشتہ چند دنوں میں شہر میں چائے کے کئی ہوٹلوں کے باہر اس طرح کے کار بم دھماکے ہو چکے ہیں لیکن اس مہینے ہونے والا یہ سب سے بڑا کار بم دھماکہ تھا۔

عراق کی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دھماکہ کئی ہوٹلوں اور دکانوں کے قریب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت دکانوں پر لوگوں کا رش تھا اور بہت سے لوگ خریداری میں مصروف تھے جبکہ بہت سے لوگ چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھے تھے۔

گزشتہ مہینے کی انتیس تاریخ کو بھی بغداد کے صدر شہر میں تین دھماکے ہوئے تھے۔

اس سال اب تک اپریل کا مہینہ سب سے زیادہ پرتشدد ثابت ہوا جس میں مارچ کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

عراق کی حکومت اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کار بم دھماکے تشدد کے اکا دکا واقعات ہیں اور ان سے عراق میں مجموعی طور پر سکیورٹی کے حوالے سے جو پیش رفت ہوئی ہے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

بغداد میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار نتالیہ انتیلاوا کا کہنا ہے کہ شہر میں لوگوں کا خیال ہے کہ سکیورٹی کی صورت حال دن بدن بگڑتی چلی جا رہی ہے اور امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اس میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان حملوں میں شیعہ آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔