کرکوک میں چونسٹھ ہلاک

کرکوک میں دھماکے کے بعد آلودہ فضا
،تصویر کا کیپشندھماکے کے وقر لوگ ظہر کی نماز پڑھ کر جا رہے تھے

عراق کے شہر کرکوک میں پولیس نے کہا ہے کہ ایک خود کش حملے میں چھیالیس لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق شیعوں کی ایک مسجد کے قریب ہونے والے اس حملے میں ایک سو ساٹھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جو ایک ٹرک میں بارود بھر کر کیا گیا، جس میں تقریباً ایک درجن مٹی کے بنے ہوئے مکان تباہ ہو گئے۔ دھماکے میں ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔

حملے اس وقت ہوا ہے جب امریکی فوج کے عراق کے شہروں اور قصبوں سے انخلاء میں صرف چند روز رہ گئے ہیں۔ اس سے چند گھنٹے قبل عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا تھا کہ امریکی فوج پروگرام کے مطابق شہروں سے چلی جائے گی۔ انہوں نے اسے ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر کہیں کوئی ایک آدھ واقعہ ہو بھی جاتا ہے تو اس سے دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ کرکوک میں حملہ اس وقت کیا گیا جب نمازی الرسول مسجد میں ظہر کی نماز پڑھ کر جا رہے تھے۔ مسجد کا انتظام ترکمانوں کے ہاتھوں میں ہے۔

کرکوک بغداد سے دو سو پچاس کلومیٹر شمال میں ہے اور یہاں گزشتہ مہینے میں بھی دو حملے ہوئے تھے جس میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کرکوک عراق کے شمال میں تیل کی صنعت کا اہم مرکز ہے اور اس کی آبادی میں کرد، عرب ، عیسائی اور ترکمان شامل ہیں۔

امریکی فوج کا پروگرام ہے کہ وہ تیس جون تک عراق کے بڑے شہروں اور قصبوں سے چلی جائے گی اور اس کے بعد ستمبر دو ہزار دس تک عراق میں فوجی کارروائی ختم کر کے سکیورٹی کا انتظام عراقیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔