ایران: برطانوی اہلکار گرفتار

ایران
،تصویر کا کیپشنایران نے گذشتہ ہفتے برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا

اطلاعات کے مطابق ایران نے انتخابات کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں تہران میں برطانوی سفارت خانے کے آٹھ مقامی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے مقامی اہلکاروں کی گرفتاری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایرن سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوراً رہا کیا جائے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب ایران نے الزام لگایا تھا کہ برطانیہ انتخابات کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جس کی برطانیہ تردید کر چکا ہے۔

ایران میں انتخابی نتائج کے خلاف بارہ جون سے شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک سترہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

ایران نے گزشتہ ہفتے برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا اور اس کے جواب میں برطانیہ نے بھی ایسی کارروائی کی تھی۔

تہران میں برطانیہ کے سفارت خانے کے عملے کے بارے میں تاحال کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارز نیوز نے ذرائع کا نام لیے بغیر بتایا ہے کہ برطانوی سفارت خانے کے مقامی عملے کے آٹھ اراکین کو ہنگاموں میں قابل ذکر کردار ادا کرنے کی بنیاد پرگرفتار کر لیاگیا ہے۔

لندن میں برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ چند روز سے عجیب وغریب خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ایران میں برطانوی شہریوں یا برطانیہ سے تعلق کی بنیاد پر لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

دفتر خارجہ کے مطابق وہ ان معاملات کو ایرانی حکام کے ساتھ اٹھاتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ بارہ جون کو ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کے نتائج کے مطابق موجودہ صدر محمود احمدی نژاد نے تریسٹھ فیصد جبکہ میر حسین موسوی نے چونتیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جس کے بعد ایران میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔