ہلمند آپریشن، امریکی فوجی اغواء

امریکی زمینی فوج کا کے مطابق ویتنام کی جنگ کے بعد امریکی میرینز نے کسی بھی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں حصہ نہیں لیا
،تصویر کا کیپشنامریکی زمینی فوج کا کے مطابق ویتنام کی جنگ کے بعد امریکی میرینز نے کسی بھی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں حصہ نہیں لیا

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں امریکی فوج نے ہزاروں میرینز اور سینکڑوں افغان فوجیوں کی مدد سے ’خنجر‘ کے نام سے ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے جسے براک اوباما کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی فوج کی طرف سے کیا جانے والا سب سے بڑا فوجی آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔

ابتدائی طور پر چار ہزار امریکی میرینز اور چھ سو پچاس افغان فوجیوں کی مدد سے کیے جانے والے اس آپریشن کو افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر ایک فیصلہ کن حملہ قرار دے رہے ہیں جو بقول ان کے افغانستان میں جاری فوجی آپریشن کا رخ موڑ دے گا۔

دوسری طرف خوست میں طالبان نے ایک امریکی فوجی کو اغوا کر لیا ہے۔ امریکی فوجی ترجمان کیپٹن الزبیتھ میتھیاس نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایک امریکی فوجی تیس جون سے اپنے یونٹ سے غائب تھا اور اب خیال ہے کہ اسے شدت پسندوں نے اغواء کر لیا ہے۔

دریں اثناء پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ ہلمند صوبے کے ساتھ سرحد پر بلوچستان کے علاقے میں پاکستان فوج کے مزید فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر وہاں سے فرار ہونے والوں کو پاکستان میں داخل ہوجانے سے روکا جائے۔

<link type="page"><caption> سرحد پر پاکستان فوج میں اضافہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090702_hilmand_pk_army_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

برگیڈیئر جنرل لیری نکولسن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شروع کیا گیا آپریشن فوجیوں اور ساز و سامان کے جحم اور برق رفتاری کی وجہ سے دوسری امریکی کارروائیوں سے مختلف ہے۔ امریکی زمینی فوج کے مطابق ویتنام کی جنگ کے بعد امریکی میرینز نے کسی بھی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں حصہ نہیں لیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق طالبان نے امریکی فوج کے اس حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ رائٹرز نے طالبان کے ایک ترجمان ملا حیات خان نے کسی نامعلوم مقام سے فون پر بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں طالبان امریکی فوجیوں کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔

امریکی فوج بڑی تعداد میں ہلمند میں اتاری گئی ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی فوج بڑی تعداد میں ہلمند میں اتاری گئی ہے

افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب فوجی یونٹ جمعرات کی صبح وادئ ہلمند میں داخل ہوئے۔ ہیلی کاپٹر غول در غول اور بے شمار بھاری فوجی گاڑیوں میں سوار امریکی اور افغان فوجیوں نے پیش قدمی کی جبکہ نیٹو کے جہازوں نے انہیں فضائی مدد فراہم کی۔

صوبۂ ہلمند میں برطانوی فوجی بھی موجود ہیں لیکن انہیں ’وسائل کی کمی‘ اور ’تکان‘ کی وجہ سے ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان میں برطانوی فوج کے کمانڈر جنرل جِم نے اس کی تردید کی تھی کہ طالبان کے خلاف جنگ مائل بہ شکست کارروائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ہلمند صوبے میں ایک فوجی کارروائی میں دو برطانوی فوج ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان کپتان ولیم پیلٹیئر نے کہا ہے کہ آپریشن کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ’دشمن‘ سے کوئی جھڑپ نہیں ہوئی تاہم ایک میرین گھریلو ساخت کا ایک بم پھٹنے سے زخمی ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ فوج جانی نقصان اٹھانے کے لیے تیار ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اسی بات پر زور دیا کہ شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

ہلمند کے گورنر گلاب منگل نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ کارروائی انتہائی مؤثر ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوجی اڈے اور چوکیاں قائم کریں گے تاکہ لوگ اپنی زندگیاں بہتر طور پر گزار سکیں۔

اس وقت نیٹو کی ’بین الاقوامی سیکیورٹی اسسٹنس فورس‘ (ایساف) کے تحت اکسٹھ ہزار ایک سو تیس فوجی جن کا تعلق امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک، آسٹریلیا، اردن اور نیوزی لینڈ سمیت بیالیس مختلف ممالک طالبان سے برسرپیکار ہیں۔ اس میں سے امریکہ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی تعداد اٹھائیس ہزار آٹھ سو پچاس ہے۔

پاکستان کے ساتھ افغانستان سرحد پر ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈیم‘ کے تحت بھی امریکی فوجی تعینات ہیں لیکن وہ ایساف کی کمان میں نہیں ہیں۔ دسمبر دو ہزار آٹھ تک ان کی تعداد سترہ ہزار ایک سو تھی۔

صدر اوباما نے اکیس ہزآر مزید امریکی فوجی افغانستا بھیجنے کا وعدہ کیا تھا جن میں زیادہ تر کو عراق سے افغانستان بھیجا جا رہا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق اس کارروائی کو ابتدائی طور پر چھتیس گھنٹوں تک انتہائی جارحانہ رکھا جائے گا۔ آپریشن کا مقصد اگست میں ہونے والے صداراتی انتخابات سے قبل افغانستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہے تاکہ ووٹروں کی رجسٹریشن ممکن ہو سکے۔