’امریکی حملہ: ہلاک شہری ہوئے‘

افغانستان کے حقوق انسانی کے کمیشن نے کہا ہے کہ اس مہینے کے شروع میں امریکی ہوائی حملے میں جو افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں سے زیادہ تر عسکریت پسند نہیں بلکہ بچے تھے۔
تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ جنوب مغربی افغانستان کے صوبے فرح میں اس ہوائی حملے میں ستانوے عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ کمیشن نے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو خطرے میں ڈالا تھا لیکن اس نے امریکہ پر بھی تنقید کی ہے کہ اس کا جواب ضرورت سے زیادہ سخت اور اعتدال سے گزرا ہوا تھا۔
اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے نوے افراد میں سے بیس سے تیس عام شہری ہو سکتے ہیں۔
ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ شہریوں کی موجودگی کے شواہد نہ ہونے کے برابر تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے سال افغان لڑائی کے دوران دوہزار عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں تاہم امریکہ نے اپنے جنگی ضابطوں میں رد و بدل بھی کرلی ہے۔

















