ایک دن میں آٹھ برطانوی فوجی ہلاک

برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں برطانوی فوج کے آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
برطانوی فوج کے سیکنڈ بٹالین کی دی رائفلز کے پانچ فوج دو مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔ یہ فوجی پیدل گشت پر تھے۔
ان تازہ ہلاکتوں کے بعد افغانستان میں سن دو ہزار ایک سے اب ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد ایک سو چوراسی ہو گئی ہے۔ یہ تعداد عراق میں برطانوی فوج کو پہنچنے والے جانی نقصان سے زیادہ ہے۔
اس سے قبل ہلمند میں برطانوی فوج نے تین فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی تھی۔
کنزرویٹیو پارٹی کے راہمنا ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پوری قوم اتنی تعداد میں فوجیوں کے ہلاک ہونے سے غم زدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فوجی برطانیہ کی سڑکوں پر دہشت گردی کو روکنے کے لیے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے حکومت سے وضاحت چاہی کہ افغانستان میں اس کی کیا حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کو مناسب ساز وسامان مہیا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ برطانوی فوج کو ہلمند میں نقل و حمل کے لیے اب تک ہیلی کاپٹر دستیاب نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے ہیلی کاپٹر مہیا کرنے کے وعدے کافی نہیں ہیں۔ ہیلی کاپٹر آج چاہیں اور زیادہ ہیلی کاپٹروں سے جانی نقصان کم ہو سکتا ہے۔
برطانوی فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف سر جوک سٹرپ نے خبردار کیا کہ جانی نقصان اور ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ افغانستان میں طالبان کو شکست کا سامنا ہے۔
دا رائلفرز کی فورتھ بٹالین سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی ناد علی کے نواح میں جمعرات کے روز پیدل گشت کے دوران ہلاک ہوا۔
جبکہ ویلز رائل ریجمنٹ کی فرسٹ بٹالین ویلش گارڈز کا ایک فوجی جمعرات ہی کے روز لشکر گاہ میں مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوا۔
برطانوی فوجی افغانستان کے جنوب میں طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہے۔ اس کارروائی میں چار ہزار امریکی اور چھ سو پچاس افغان فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اس مہم کا مقصد طالبان کو علاقے سے نکال کر اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔





















