ایران میں ہزاروں افراد کے مظاہرے

ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد نے ایک بار پھر پچھلے ماہ ہونے والے صدراتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور کئی افراد کو گرفتار کر لیاگیا۔ مظاہروں کا مرکز تہران یونیورسٹی کے آس پاس کا علاقہ تھا۔ مظاہرین ہاتھوں پر سبز پٹیاں باندھے ہوئےاپوزیش لیڈر میرحسین موسوی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایران کے ایک با اثر سیاستدان ہاشمی رفسنجانی نے پہلی بار صدارتی انتخابات کے بارے میں کچھ کہا ہے۔
سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نےتہران یونیورسٹی کی مسجد میں خطبے کے دوران کہا کہ صدارتی انتخابات کے بارے میں لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔ رفسنجانی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ان تمام افراد کو رہا کر دے جنہیں مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔
سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اس مجلس خبرگان کے سربراہ ہیں جو ایران کے رہبر اعلیٰ کو ہٹانے کا اختیار رکھتی ہے۔
ہاشمی رفسنجانی احمد نژاد کےحریف میر حسین موسوی کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے الیکشن سے پہلے ایک مباحثے میں ہاشمی رفسنجانی پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا۔ ہاشمی رفسنجانی کے خاندان کے کچھ افراد کو بھی مظاہروں کے دوران گرفتار کیاگیا تھا۔
صدر احمدی نژاد کے حریف میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے بھی تہران یونیورسٹی کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی اور ہاشمی رفسنجانی کا خطبہ سنا۔
خطبے کے دوران کئی بار اپوزیشن حامیوں نے نعرے بازی کی۔ اپوزیشن حامی ’آزادی آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہاشمی رفسنجانی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ صحافت پر بے جا پابندیاں عائد نہ کرے اور ریڈیو اور ٹی وی پر صدارتی انتخابات کے بارے میں کھلی بحث کی اجازت ہونی چاہیے۔
مبصرین کے مطابق سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کا خطبہ ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے صدراتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد کی حمایت کی تھی۔





















