ہیلی کاپٹروں کی کمی ’نقصان دہ‘

برطانوی فوجی
،تصویر کا کیپشنبرطانوی فوجی افغانستان کے جنوب میں طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہیں

برطانوی اراکین پارلیمان کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کی کمی افغانستان میں آپریشن اور فوجیوں کی حفاظت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ طیاروں کی کمی نہیں۔

لیکن ڈیفنس سیلیکٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی فوج کے لیے پرانے طیاروں کی بجائے نئے طیارے خریدنے کی ضرورت ہے۔

کراس پارٹی کمیٹی کے چیئر مین جیمز آربتناٹ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات کمانڈرز فوجی نقل و حرکت کے لیے درکار ہیلی کاپٹرز کی کمی کی وجہ سے اہم آپریشنز کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ کمانڈرز کو جہاں ترجیحی بنیاد پر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سامان کی ترسیل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بھی زمینی راستے سے رسد فراہم کرنی پڑتی ہے جس سے کارکردگی پر اثر پڑتا ہے اور فوجیوں کی حفاظت بھی مناسب نہیں ہوتی۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کو مناسب ساز وسامان مہیا نہ کرنا جانی نقصان کی بڑی وجہ ہے۔

افغانستان میں برطانوی فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل سر رچرڈ ڈینٹ نے بھی اسی ہفتے کہا تھا کہ برطانوی فوج کے پاس ہیلی کاپٹرز نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی مدد لیتے تھے۔ وہ اپنے بیان میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ صوبہ ہلمند میں مؤثر آپریشن کے لیے انہیں مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔

برطانوی فوجی افغانستان کے جنوب میں طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہے۔ اس کارروائی میں چار ہزار امریکی اور چھ سو پچاس افغان فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس مہم کا مقصد طالبان کو علاقے سے نکال کر اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔