افغان جیلوں کی تنظیمِ نو ضروری

امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشنامریکہ کے زیِر انتظام بگرام فضائی اڈے میں بھی اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج کے تجزیے میں افغان جیلوں اور عدالتی نظام کی تشکیلِ نو کی سفارش کی گئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق سینئیر مرین کمانڈر کی جانب سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں مقامی جیلوں میں طالبان کی جانب سے بھرتی کیے جانے کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ یہ جائزہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔

جائزے میں امریکہ کے زیِر انتظام بگرام فضائی اڈے میں بھی اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ بی بی سی نے اس فضائی اڈے میں قیدیوں سے زیادتیوں کی خبریں دی تھیں۔

بی بی سی نے پورے افغانستان میں دو ماہ تک تقریباً 27 قیدیوں سے بات کی تھی جن میں سے زیادہ تر نے یہ الزام لگائے تھے کہ انہیں مارا پیٹا گیا، انہیں سونے نہیں دیا جاتا تھا اور کتوں سے ڈرایا جاتا تھا۔

اس وقت بگرام میں قیدی اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاجًا کوئی بھی سہولت لینے سے انکار کر رہے ہیں۔

میجر جنرل ڈگلس ایم سٹون کی جانب سے دی گئی سفارشات میں سے اہم یہ ہے کہ شدت پسندوں کو معتدل قیدیوں سے علٰیحدہ رکھا جائے۔

تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ افغانستان میں شدت پسندوں کے لیے ایک علٰیحدہ جیل بنانے کے لیے فنڈز مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ باقی قیدیوں کو معاشرے میں واپس بھیجنے سے قبل انہیں پیشہ وارانہ تربیت اور ماڈرن اسلام کی تربیت دی جائے۔