ایران ستمبر تک جواب دے: امریکہ

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اگلے دو ماہ کے اندر اندر امریکہ کی طرف تعلقات کی بحالی کے سفارتی کوششوں کا جواب دے۔ادھر اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود باراک نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ایک امکان کے طور پر موجود ہے۔ انہوں نے یہ بات یروشلم میں اپنے امریکی ہم منصب سے بات چیت کے بعد کہی۔
سینئر امریکی اہلکار خطے میں امن کی دم توڑتی کوششوں میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خطے کے لیے امریکی ایلچی جارج مچل نے مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کی ہے اور بعد میں وہ فلسطینی رہنما محمود عباس سے بھی ملیں گے۔
جارج مچل پہلے ہی نئی امریکی تجویز پر حمایت حاصل کرنے کی غرض سے شام میں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
جارج مچل، رابرٹ گیٹس اور دو دیگر سینئر امریکی نمائندوں کے ہمراہ اسرائیلی رہنماؤں سے مل رہے ہیں تاکہ اسرائیل اور فلسطین میں امن کا عمل شروع ہو جو گزشتہ چھ ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس وقت سے دباؤ کا شکار ہیں جب سے امریکی صدر براک اوباما نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ غربِ اردن میں ہر طرح کی یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے۔
جنوری میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد صدر اوباما نے ایران کے ساتھ بحالیِ تعلقات کی ایک کوشش میں کہا تھا کہ اگر ایران اور ایران جیسے دیگر ممالک ’اپنی بند مٹھی کھولنے پر راضی ہیں تو امریکہ بھی ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا۔‘

لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی مبینہ جوہری خواہشات اس کے لیے اولین تشویش کا درجہ رکھتی ہیں اور حالیہ ہفتوں میں امریکی نے ایران میں صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج جس طرح دبایا ہے اس پر امریکہ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو رابرٹ گیٹس نے کہا کہ صدر اوباما، ایران کی طرف سے ’شاید ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع تک‘ جواب کے منتظر ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ اگر ایران اور شمالی کوریا نے اپنے اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کیا تو انہیں کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھائی لینڈ میں ایک علاقائی اجلاس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بناتا ہے تو امریکہ خلیج میں اپنے اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کےلیے تیار ہوگا۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر تہران جوہری پروگرام پر کاربند رہتا ہے تو خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کے امکانات ہیں۔’ہو سکتا ہے کہ جوہری ہتھیار بنا کر ایران زیادہ محفوظ ہونے کی بجائے کم محفوظ ہو جائے۔‘




















