عافیہ صدیقی مقدمہ، 20 لاکھ ڈالر کی رقم جاری

    • مصنف, حسن مجتبٰی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

پاکستانی حکومت نے امریکہ میں قید خاتون سائنسدان عافیہ صدیقی کو قانونی مدد کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی رقم جاری کردی ہے-

نیویارک میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے کو ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایات پر بیس لاکھ ڈالر کی رقم واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو جاری کر دی گئی ہے ۔

ذرائع نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ افغانستان میں مبینہ طور امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں پاکستانی خاتون سائنسدان عافیہ صدیقی پر امریکی حکومت کی طرف سے قائم مقدمے میں ان کے متوقع دفاع کے وکیل امریکی بحریہ کے سابق سینئر افسرچارلس سوئیٹ ہونگے جو اس سے قبل اسامہ بن لادن کے ڈرائیور سلیم ہمدان کی پیروی کر چکے ہیں۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے جاری کردہ رقم سے قبل مسلم لیگل فنڈ اور پاکستان تحریک انصاف جیسی تنظمیں بھی امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں دفاع کےلیے چندہ جمع کرنے کی مہم چلا رہی تھیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی ابتدائی سماعت انیس ستمبر کو ہوگی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائي کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائي کےلیےنہایت ہی سرگرم ہیں اور عافیہ صدیقی کی والدہ کو یقین دہائي کرواچکے ہیں کہ وہ اپنی ’بہن‘ عافیہ صدیقی کو ضرور امریکی قید سے رہا کروائیں گے۔حسین حقانی امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بار ہا مل چکے ہیں۔

امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کا بڑا حصہ امریکہ میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان عافیہ صدیقی کو ’بیگناہ‘ اور ’پاکستان کی بیٹی‘ قرار دیتا ہے جبکہ امریکی میڈیا کا ایک حصہ انہیں ’القاعدہ کی ماتا ہری‘ اور ’خاتون القاعدہ‘ قرار دیتا ہے-