ایرانی وزیر انٹرپول کو مطلوب

احمد واحدی
،تصویر کا کیپشناحمد واحدی کو بدھ کے روز وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا

انٹرپول کے مطابق ایران کی نئی کابینہ میں وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد احمد واحدی انٹرپول کی ’مطلوب‘ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

ایجینسی کا کہنا ہے کہ انیس سو چرانوے میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں یہودیوں کے ایک مرکز میں ہونے والے بم حملے کے الزام میں احمد واحدی کے لیے دو ہزار سات میں ’ریڈ نوٹس‘ جاری کیا گیا تھا۔

اسرائیل اور ارجنٹائن نے احمد واحدی کی نامزدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان اینڈی ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ’ احمدی نژاد کا یہ اقدام مزید ثابت کرتا ہے کہ اس شخص کے ساتھ معاملات طے کرنا مشکل ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ارجنٹائن کے سرکاری وکیل ایلبرٹو نسام نے کہا ہے کہ’یہ نامزدگی بہت اہم ہے لیکن اس میں حیرانگی والی بات نہیں‘۔

انہوں نے کہا ’ایران نے ہمیشہ دہشت گردوں کو سرکاری عہدوں پر فائز کر کے تحفظ فراہم کیا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا بڑا عہدہ اس سے قبل کسی کو نہیں دیا گیا‘۔

ایران نے اس الزام کو ایک ’صیہونی سازش‘ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔

ایران میں جون میں ہونے والے متنازعہ صدارتی انتخاب کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر محمود احمدی نژاد نے اپنی اکیس رکنی کابینہ کا اعلان بدھ کو کیا تھا۔ ایرانی پارلیمان اس کابینہ کی توثیق کے لیے ماہِ رواں کے آخر میں ووٹنگ کرے گی۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ مسٹر واحدی اور پانچ دوسرے افراد نومبر دو ہزار سات سے ان کی ’ریڈ نوٹس‘ فہرست پر ہیں۔ یہ ریڈ نوٹس ارجنٹائن کی حکومت کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔

مسٹر واحدی جو احمدی نژاد کے پہلے دور حکومت میں نائب وزیر دفاع تھے پر الزام ہے کہ وہ بیونس آئرس میں اسرائیلی۔ارجنٹائن میوچل ایسوی ایشن (اے ایم آئی اے) کی عمارت میں ہونے والے بم حملے میں ملوث تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل سے باہر یہودیوں کے کسی مرکز پر ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

ارجنٹائن کے سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ’شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ احمد واحدی نے چودہ اگست انیس سو ترانوے میں عراق میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اس حملے کی منظوری دی تھی‘۔

لیکن ایرن نے جمعہ کو ان الزامات کو رد کیا ہے اور صدر احمدی نژاد کے پریس مشیر نے خبر رساں ادارے سے کہا ہے کہ ’یہ مسئلہ اب سے پہلے کیوں سامنے نہیں لایا گیا؟‘۔

انہوں نے کہا ’ مسٹر واحدی اس سے قبل بھی نائب وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے جو ایک اعلٰی سرکاری عہدہ ہے۔ اس لیے لگتا ہے کہ یہ کوئی نئی ترکیب ہے اور بنیادی طور پر ایک صیہونی سازش ہے‘۔