محمود احمدی نژاد نے حلف اٹھا لیا

محمود احمدی نژاد نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد دوسری بار ایرانی صدر کےعہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
تقریب حلف برداری کے وقت پارلیمان کے باہر حزب اختلاف کے حامیوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن کو کنٹرول کرنے کے لیے وہاں سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
تقریب حلف برداری کے بعد اپنی تقریر میں انہوں نے انتخابات کے سرکاری نتائج اور اپنی شاندار فتح کا دفاع کرتے ہوئے ان بیرونی طاقتوں پر سخت تنقید کی جنہوں نے ایرانی انتخابات کے نتائج پر شک ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ان طاقتوں کےدباؤ میں نہیں آئیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان حکومتوں کو اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔ ایرانی عوام تعمیری مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور ہم قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سےسختی سے نمٹیں گے۔‘
احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں صرف اپنے مفاد کے لیے جمہوریت چاہتی ہیں۔ اور وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا نہیں جانتے۔
احمدی نژاد کو اب دو ہفتوں کے اندر ایک ایسی قابل اعتماد کابینہ تشکیل دینا ہوگی جس کی ایرانی پارلیمان توثیق کردے۔
امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر احمدی نژاد کو مبارکباد کے پیغامات نہیں بھیجیں گے۔ ان ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ ’ایران میں کوئی آپ کے پیغامات کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔‘
یاد رہے کہ بارہ جون کو ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد جب نتائج سامنے آئے تو اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور حزب اختلاف کے حامیوں کی طرف سے زبردست احتجاجی مظاہروں کے دوران حکام نے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ منگل کے روز ان میں سے ایک سو چالیس افراد کو جیلوں سے رہا بھی کیا گیا تھاجبکہ ان پر تشدد مظاہروں میں تقریباً تیس افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔.
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















