شمالی اور جنوبی کوریا کی بات چیت

شمالی اور جنوبی کوریا کے وزیر اتحاد
،تصویر کا کیپشنشمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان تقریباً دو سال کے بعد پہلی ملاقات ہوئی ہے

شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان تقریباً دو سال کے بعد غیر متوقع طور پر جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ملاقات ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال کے ایک قریبی ساتھی نے جنوبی کوریا کے وزیر اتحاد ہیوں ان تائیک سے ملاقات کی ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں میزائل تجربے کیے تھے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب وہ خطے میں بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسٹر ہیوں ان تائیک نے اپنے شمالی کوریائی ہم منصب سے بات چیت سے قبل کہا ہے کہ ’ میں اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین مسائل کو اجاگر کروں گا‘۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والی بات چیت سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید شمالی کوریا حالیہ ماہ میں جنوبی کوریا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے بعد اب تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔

چند ماہ پہلے شمالی کوریا نے لمبے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ اور زیر زمین جوہری تجربہ کیا تھا۔

بی بی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کا اثر ظاہر ہو رہا ہے اور شمالی کوریا چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین سیاحت اور تجارت کو فروغ ملے تاکہ اس کی غیر ملکی زر مبادلہ کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

شمالی کوریا کی بر سر اقتدار ورکرز پارٹی کے چھ اہلکاروں نے جمعہ کو جنوبی کوریا کے سابق صدر کم ڈے ژونگ کی قبر پر پھول چڑھائے۔

جنوبی کوریا کے نوبل انعام یافتہ سابق صدر کم ڈے ژونگ منگل کو تراسی برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ کم ڈے ژونگ نے اپنی زندگی شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ یکجا ہونے کی کوششیں کرنے میں وقف کر دی تھی۔