شمالی کوریا کے تجربے کے بعد تحمل کی اپیل

شمالی کوریا فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا میں اس سے قبل ان مقامات سے میزائل تجرباتی طور پر داغے گئے

روس، چین اور امریکہ نے شمالی کوریا کے میزائل تجربوں کے بعد تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

چار جولائی کو پانچ سو کلو میٹر کی رینج کے سکڈ میزائلوں کا یہ تجربہ بظاہر امریکہ کے مقابلے میں کھلی سرکشی کا مظاہرہ ہے۔روس اور چین نے پیونگ یانگ سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل سے متعلق کسی بھی تجربے پر پابندی ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق میزائلوں کا حالیہ تجربہ جاپان کے سمندر میں کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے مطابق دو تجربات صبح آٹھ اور ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان کیے گئے جبکہ تیسرا تجربہ پونے گیارہ بجے اور چوتھا اس کے چند گھنٹوں کے بعد کیا گیا۔

اس ہفتے کے ابتدا میں شمالی کوریا نے چند میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جبکہ مئی میں زیر زمین جوہری تجربہ کرنے کے بعد اقوام متحدہ نے اس پر پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کو امریکی مدد بھی حاصل ہے۔

وزارت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سنیچر کے تجربات جمعرات کو کیے گئے تجربات سے زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ یہ کم فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ یہ تجربات علاقے میں کشیدگی بڑھانے کے جواز کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔

جاپان اور جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا انٹر کانٹی نینٹل یا بین البراعظم مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔