ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مقدمے کی سماعت

    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ پر کارروائی کے لیے انیس اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے ۔

یہ بات وفاقی حکومت کی طرف سے اس تحریری جواب میں بتائی گئی ہے جو ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان نوید عنایت ملک نے سوموار کو لاہور ہائی کورٹ کے روبرو توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران پیش کیا۔

خیال رہے کہ لاہور کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ عدالتی پابندی کے باوجود حکومت نے عافیہ صدیقی کے دفاع کے لیے امریکی وکلا کو فیس کی مد میں رقم ادا کی ہے جو توہین عدالت ہے۔ درخواست میں متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری مشتمل ایک رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے تحریری جواب کے ذریعے عدالت کو بتایا ہےکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ کی پیروی کے لیے ان کے بھائی محمد علی صدیقی سے مسلسل مشاورت کے بعد تین امریکی وکلا کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں جو امریکی عدالت کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا دفاع کریں گے۔

حکومتی جواب میں یہ وضاحت کی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ کا دفاع کرنے والے تین امریکی وکلا کو پانچ ، پانچ لاکھ ڈالر کی رقم فیس کی مد میں ادا کی گئی ہے اور یہ رقم عدالتی احکامات سے پہلے ہی وکلا کو ادا کی جا چکی تھی۔

جواب میں یہ بھی بتایاگیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کے لیے جن امریکی وکلا کی خدمات لی گئیں ہیں ان میں چارلس ڈی سوفٹ، ای لین وٹ فیلڈ شارپ اور لینڈا مورے نو شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے بعد درخواست پر مزید کارروائی اکتیس اگست تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی ایک دوسری درخواست بھی عدالت کے روبرو زیر سماعت ہے جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع اور پیروی کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی جو رقم جاری کی جا رہی ہے اس رقم کے بڑے حصے میں خورد برد ہوسکتی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہاگیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں ہے اس لیے اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جائے کیونکہ بقول بیرسٹر جاوید اقبال جفعری کے جو درخواست عالمی عدالت انصاف میں دائر کی جائے گی اس پر انتہائی کم خرچ آئے گا۔